ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

دھرنوں اور رستوں کی بندش سے بر آمد کنندگان کو بھاری مالی نقصان کا خدشہ ،400سے زائد کنٹینرز داخلی راستوں پر روک لئے گئے

datetime 8  جنوری‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے مختلف مقامات پر دھرنوں اور رستوں کی بندش سے کینو کی بر آمد متاثر ہوگئی ہے جس کے نتیجے میںبر آمد کنندگان کو بھاری مالی نقصان کا خدشہ ہے ۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں دھرنوں اور راستوں کی بندش کے نتیجے میںکینو کے400سے زائد کنٹینرز کراچی اور سندھ کے داخلی رستو ں پر رک گئے

ہیں،آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد کے مطابق ان 400کنٹینرز میں46لاکھ ڈالرز سے زائد مالیت کا کینو موجود ہے اور اگر ریفر کنٹینرز کو بجلی سے منسلک نہ کیا گیا تو سڑکو ں پر کھڑ ے ان کنٹینرز میںموجود لاکھوں ڈالرز مالیت کے کینو خراب ہونے کا خدشہ ہے جس کے نتیجے میںبر آمد کنندگان کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے ،وحید احمد نے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ اس مسئلے کے حل کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں تا کہ بر آمدی کنسائمنٹس کو بندر گاہ تک پہنچایا جاسکے ،وحید احمد کا مزید کہنا تھا کہ کنٹینرز اور جہازوں کی قلت کے باعث پہلے ہی بر آمد کنندگان کو چار گنا زائد فریٹ ادا کرنا پڑ رہے ہیں اور ایسے میں بر آمدات میںتاخیر ان کیلئے مزید مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔دوسری جانب آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر کی قومی شاہراہوں کوفوری طور پر کھلوایا جائے جوہزارہ برادری کے احتجاج کی وجہ سے ملک بھر کی شاہراہیں بلاک ہو چکی ہیں۔آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری اویس چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ دھرنوں کی وجہ سے پاکستان کی اہم قومی شاہراہیں بند ہیں اوراسی وجہ سے ہمارے ڈرائیورز شدید مشکلات کا شکار ہیں،  اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ہمارے لیے کاروبار کرنا مشکل ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…