ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

باہر پیسہ گیا اسے کسی صورت واپس نہیں لایا جاسکتا ،ایف بی آر چیئرمین رہنے کے باوجود کیا نہیں کر  سکا ، شبر زیدی کا اعتراف

datetime 8  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد( آن لائن )سابق چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا ہے کہ میں تو ایف بی آر کو ٹھیک نہیں کر سکا۔دنیا کا کوئی بھی معاشرہ اپنی مرضی سے ٹیکس نہیں دیتا۔اس کے لیے ریاست کے پاس رٹ ہوتی ہے۔عمران خان نے ماضی کے مقابلے میں اچھے فیصلے کیے۔اگر ریاست ٹیکس کی

رٹ قائم کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنے ہاتھ سخت کرنا پڑیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی شعبہ ٹھیک کام نہیں کر رہا۔انہوں نے کہا کہ 2016 میں ایک کتاب لکھی تھی جس میں تھا کہ پانامہ لیکس پاکستان کے لیے ایک نعمت ہے جو بہت سی چیزوں کو ٹھیک کر دے گی۔پاکستان میں جو مشینری امپورٹ کی جاتی ہے اس پر لیا جانے والا کمیشن باہر کے ممالک میں رکھا جاتا ہے۔آج بھی پاکستانیوں کے 120 سے 150 ارب ڈالر باہر کے بینکوں میں پڑے ہیں۔آج بھی ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ باہر جا رہا ہے۔پاکستان میں بہت سے لوگوں کے لندن اور دبئی میں فلیٹس ہیں،میری بات لکھ لیں کہ ایک بھی پیسہ واپس نہیں آئے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے ثاقب نثار کی عدالت میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ باہر قانونی طور پر پیشہ گیا جس کو واپس نہیں لایا جا سکتا۔نواز شریف اور ضیاالحق کے دور میں پیسہ باہر جانا شروع ہوا۔انہوں نے کہا کہ کرپشن کو ریاست اور نظام نے پروان چڑھایا۔اس سے قبل سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ پاناما ایشو کے موقع پر میں نے کہا تھا قانونی طریقے سے بھی پیسہ باہر گیا ہے۔ ایسے کاروبار بھی ہیں جو کاغذات پر موجود ہی نہیں لیکن چل رہے ہیں،اور ان طریقوں سے پیسہ قانونی طور پر ملک سے باہر جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مافیاز ہر سیکٹر میں موجود ہیں، مختلف کاروبار رجسٹرڈ ہی نہیں جس کی وجہ سے بھی مسائل ہیں۔میں نے قانونی طریقے سے پیسے باہر بھیجنے پر 2 مختلف آرٹیکل بھی لکھے تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ قانونی طریقے سے پیسے باہر بھیجنے کا قانون بھی نواز شریف کا تحفہ ہے۔ شبر زیدی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی ان سے بہت سی توقعات تھیں جنہیں پورا کرنے میں ناکام رہا، مجھے اس بات بہت زیادہ افسوس ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…