اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

” کرتا نیب ہے بھگتی سپریم کورٹ ہے” عدالت عظمیٰ نے قومی احتساب بیوروپر عدم اعتماد کا اظہا رکردیا

datetime 6  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے باغ ابن قاسم کرپشن کیس میں ڈاکٹر ڈنشاہ کی ضمانت منظور کرلی جبکہ ججز نے ریمارکس دیئے ہیں کہ احتساب قانون کے مطابق نہیں ہوگا تو ادارے کیخلاف ایکشن لیں گے،نیب ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے نہ لگائے، چھوٹے

افسران کو پکڑ لیا اصل فائدہ لینے والے کو نہیں پکڑتے ہیں اور ملزم کو چھوڑنے کا الزام سپریم کورٹ پر آ تا ہے، ملک کو بچانا ہے یا نہیں، کرتا نیب ہے بھگتی سپریم کورٹ ہے۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں باغ ابن قاسم کرپشن کیس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نے ریمارکس دیے کہ اس ملک کے ساتھ نیب کیا کر رہا ہے، اس سکینڈل کے اصل ملزم پر نیب نے ہاتھ نہیں ڈالا، نیب کے پاس اپنی مرضی سے کام کرنے کا اختیار نہیں، نیب نے اپنی مرضی کرنی ہے تو سیکش 9 میں ترمیم کرے پھر جو مرضی کرے۔جس پر پراسیکیوٹر جنرل نے جواب دیا کہ نیب اپنی مرضی نہیں کرتا، ملزم کو پکڑ کر 24 گھنٹوں میں احتساب عدالت میں پیش کردیا جاتا ہے۔عدالت نے کہا کہ نیب ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے نہ لگائے، چھوٹے افسران کو پکڑ لیا اصل فائدہ لینے والے کو نہیں پکڑتے ہیں اور ملزم کو چھوڑنے کا الزام سپریم کورٹ پر آ تا ہے، ملک کو بچانا ہے یا نہیں، کرتا نیب ہے بھگتی سپریم کورٹ ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے

کہا کہ ہم نیب سے مطمئن نہیں ہیں، نیب کو کام سے کون روکتا ہے ہمیں بتائیں تاکہ اسے پکڑیں، نیب کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی نے مجھ پر مہربانی کی تو میں اس پر مہربانی کروں، نیب کو بہادری اور اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔عدالت نے کہا

کہ نیب کی کارکردگی رپورٹ پڑی ہے، نیب نے اربوں روپے اکھٹے کیے ہیں، نیب پر سرکار کا ہی نہیں ہر طرف سے دباؤ ہوتا تاہم قانون کا اطلاق سب پر برابر ہونا چاہیے اور احتساب بھی قانون کے مطابق ہونا چاہیے، احتساب قانون کے مطابق نہیں ہوگا تو ادارے کیخلاف ایکشن لیں گے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ نیب بڑے آدمی پر ہاتھ نہیں ڈالتا لیکن بکری چور پانچ سال جیل جاتا ہے۔ جسٹس مظاہر علی نقوی نے کہا کہ نیب سرکاری افسروں کو سب پہلے گرفتار کر لیتا ہے لیکن نیب جس کیخلاف شواہد ہوں اسے گرفتار نہیں کرتا، پہلا ریفرنس دوسرا ریفرنس یہ کیا مذاق بنایا ہوا ہے۔نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے اوپر کوئی دباؤ نہیں کوئی کام سے نہیں روکتا اور ڈاکٹر ڈنشاہ کی درخواست ضمانت کی مخالفت نہیں کریں گے۔ بعد ازاں عدالت نے ڈاکٹر ڈنشاہ کی ضمانت منظور کرلی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…