اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

مولانا فضل الرحمن کی صدارت 2 بچوں کی مرہون منت ہے حافظ حسین احمدنے سربراہ جے یو آئی (ف)کو آئینہ دکھا دیا

datetime 19  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جے یو آئی رہنما حافظ حسین احمد کا نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کی صدارت دو جماعتوں کی نہیں بلکہ دو بچوں کی مرہون منت ہے اور پوری پی ڈی ایم دو بچوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔جو بڑے لوگ ہیں

وہ فطری طور پر جب کوئی غلطی کرتے ہیں تو وہ بھی بہت بڑی ہوتی ہے اور نا قابل تلافی ہوتی ہے، اسی لئے اسلام اور دین کے مطابق مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ہمارے ادارے تو موجود ہیں لیکن عہدیداروں کی بات سنی جاتی ہے اور نہ ہی کسی اور کی۔انہوں نے کہا کہ ہماری ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم فیصلے پہلے کر لیتے ہیں اور مشاورت بعد میں کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ میں جب ہم کسی اور جنرل کے پاس گئے تھے تو ان کی یقین دہانی پر مارچ کو ختم کردیا گیا تھا، لیکن تب یہ غلطی کس کی تھی اگر ادارے ہوتے تو اس شخص کو پکڑا جاتا جس نے 13 دن تک ہمارے ورکرز کو سردی میں لا کر بٹھائے رکھا اور جھوٹ کا سہارا لے کر ہمیں وہاں سے اٹھنے پر مجبور کیا۔حافظ حسین احمد کا ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ صورتحال بہت جلد واضح ہو جائے ابھی تک تو بات فروری تک پہنچی ہے، لیکن فروری کے آگے کشمیر کے حوالے سے کچھ جماعتوں کی منصوبہ بندی ہے، جنہوں نے

گلگت بلتستان میں الیکشن لڑا تھا ، جب لوگ استعفیٰ دینے کے لیے باہر نکلتے ہیں تو اس طرح سے ضمنی انتخابات کیلئے بار بار الیکشن کمیشن کو نہیں کہتے۔انہوں نے کہا کہ اگر پی ڈی ایم کا فیصلہ ہو چکا ہے میثاق پر بھی دستخط ہوچکے ہیں اوراستعفوں کا بھی فیصلہ ہوگیا ہے مگر بلاول بھٹو کہتے ہیں

کہ پیپلز پارٹی کا ای سی سی کا اجلاس بلا کر فیصلہ کیا جائے گا تو کیا پھر پی ڈی ایم کی ویٹو پاور پیپلزپارٹی کے ہاتھ میں ہے؟انہوں نے کہا کہ کچھ دوستوں کی جانب سے کہا جا رہا تھا کہ حافظ صاحب کی زبان پھسلی ہے، لیکن میں انہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ نہ حافظ صاحب کی زبان پھسلتی ہے

اور نہ ہی چمک دیکھ کر ان کے پائوں پر پھسلتے ہیں، میری سیاسی چالیس سالہ زندگی میں نہ کبھی زبان پھسلی ہے نہ ہاتھ پائوں پھسلے ہیں، لیکن جو پھسلے ہیں وہ قوم کے سامنے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…