جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جائے، آرمی چیف نے پی او ایف کو پاکستان کے دفاع میں ریڑھ کی ہڈی قرار دیدیا

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن) چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کاکہناہے کہ مستقبل کی جنگجو کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ناگزیر ہے کہ ہم اپنی دفاعی پیداوار میں خود انحصاری حاصل کریں اور جدید ترین ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جائے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے پاکستان آرڈیننس فیکٹریز کے دورہ کے موقع پر کیا۔ترجمان افواج پاکستان کے مطابق آرمی چیف کو پی او ایف واہ

کے دورہ کے موقع پر مختلف پیداواری یونٹس کی کارکردگی بارے بریفنگ دی گئی۔ انہیں اس بریفنگ کے دوران پی او ایف کے حاصل کردہ اہداف مستقبل کے منصوبے اور کم لاگت میں جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری اور پائیدار پیداواری صلاحیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے حوالے سے بھی بتایاگیا کہ کس طرح افواج پاکستان کی موجودہ آپریشنل ضروریات کوپورا کیا جارہا ہے آرمی چیف کو پی او ایف کے مختلف انٹرنیشنل وینچرز کے بارے میں بھی آگاہ کیاگیا جس کے تحت دفاعی برآمدات پرفوکس کیاجارہا ہے اوراس کے ذریعے قومی خزانے کی بچت بھی کی جارہی ہے۔ آرمی چیف نے ڈسپلے لاؤنچ کا بھی دورہ کیا جہاں پرانہیں جدید ترین تیارکردہ نئی دفاعی مصنوعات کے حوالے سے بتایاگیا۔ آرمی چیف نے پی او ایف کے سٹاف اور انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پی او ایف افواج پاکستان کے پیچھے ایک ایسی فورس ہے جو کہ پاکستان کے دفاع میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ملکی سطح پر ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کرکے جدت حاصل کرنا خود انحصاری کی طرف ایک اہم قدم ہے اوردفاعی پیداوار میں بھی ناگزیر ہے کہ ہم مستقبل کی جنگوں کے چیلنجز سے نمٹ سکیں اس سے قبل جب آرمی چیف پی او ایف پہنچے تو چیئرمین پی او ایف لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر نے ان کا استقبال کیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…