ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

دِل کے دورے کا سب سے زیادہ اور سب سے کم خطرہ کس بلڈ گروپ کے لوگوں کو ہوتاہے؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لندن(آئی این پی) ا و گروپ کے خون والوں کو دل کے دورے کا خطرہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے ۔برطانوی میڈیا کے مطابق تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ جن کے خون کا گروپ او نہیں ہے، انھیں دل کا دورہ پڑنے کا امکان دوسرے لوگوں کے مقابلے میں تھوڑا زیادہ ہوتا ہے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اے، بی اور اے بی گروپ والے لوگوں میں خون جمانے والی ایک پروٹین کی مقدار

او گروپ کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے دل کی بیماری کے خطرے سے دوچار لوگوں کے علاج میں مدد ملے گی۔تاہم ایک خیراتی ادارے کا کہنا ہے کہ لوگوں کو بیماری کا خطرہ کم کرنے کے لیے تمباکو نوشی چھوڑنے اور صحت بخش خوراک کھانے پر زیادہ توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔یہ تحقیق یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی کانگریس میں پیش کی گئی اور اس میں 13 لاکھ لوگوں کا جائزہ لیا گیا۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کے خون کا گروپ او نہیں ہے، انھیں دل کے دورے کا خطرہ 1.5 فیصد ہے۔ جب کہ وہ لوگ جن کے خون کا گروپ او ہے، ان میں یہ شرح 1.4 فیصد ہے۔سابقہ تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ سب سے نایاب گروپ یعنی اے بی کو سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور ان کے حامل لوگوں میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ 23 فیصد ہوتا ہے۔ریسس نیگیٹِو نامی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں سب سے عام گروپ اے بی ہے، جو آبادی کا 24 فیصد بنتا ہے، جب کہ او گروپ تقریبا 29 فیصد لوگوں میں ہے۔دل کی بیماری کے پیچھے کئی عوامل ہوتے ہیں جن میں تمباکو نوشی، موٹاپا، اور غیر صحت مندانہ طرزِ زندگی شامل ہیں۔تاہم انسان خون کے گروپ کے مقابلے پر ان عوامل کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔تحقیق کی مصنف ٹیسا کول کا تعلق نیدرلینڈز کے یونیورسٹی میڈیکل سینٹر گرونیگین سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ

اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ مستقبل میں دل کی بیماری کا خطرہ کم کرنے کے لیے کولیسٹرول، عمر، صنف اور بلڈ پریشر کے ساتھ ساتھ خون کے گروپ کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔وہ لوگ جن کے خون کا گروپ او ہوتا ہے، ان کے بارے میں معلوم ہے کہ ان کے خون میں کولیسٹرول زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے ان کے علاج میں اس بات کو ملحوظِ خاطر رکھا جانا چاہیے۔

اس تحقیق میں او بلڈ گروپ کے پانچ لاکھ دس ہزار، جب کہ دوسرے گروپس کے سات لاکھ 70 ہزار افراد کا جائزہ لیا گیا۔ پہلے گروپ میں 1.4 فیصد، جب کہ دوسرے گروپ میں 1.5 فیصد لوگوں کو دل کا دورہ پڑا یا دل کا درد اینجائنا لاحق ہوا۔برٹش ہارٹ فانڈیشن کے ڈاکٹر مائیک نیپٹن کہتے ہیں کہ اس تحقیق کا حالیہ طریق علاج پر کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا۔وہ کہتے ہیں: ‘او گروپ کے علاوہ دوسرے گروپس کے لوگوں کو بھی دل کی بیماری کا خطرہ کم کرنے کے لیے وہی کچھ کرنا پڑتا ہے جو دوسرے کرتے ہیں۔اس میں سمجھ داری کے اقدامات مثلا بہتر خوراک، وزن، ورزش، اور تمباکو نوشی سے پرہیز شامل ہے اور یہ کہ جہاں تک ممکن ہو، بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور ذیابیطس کو قابو میں رکھا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…