پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

جلسہ روکنے کی کوشش کی گئی تو لاٹھی گولی سرکار کو اوقات یاد دلا دیں گے، پی ڈی ایم کا حکومت کو چیلنج

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

پشاور(این این آئی) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے عہدیداران نے واضح کیا ہے کہ پی ڈی ایم پشاور جلسہ کو روکنے کی کوشش کی گئی تو لاٹھی گولی کی سرکار کو ان کی اوقات یاد دلا دینگے، تمام اپوزیشن جماعتیں پر امن ہیں اور رہیں گی، جلسہ کے دوران ایک گملا بھی نہیں ٹوٹے گا۔22 نومبر کو پشاور جلسہ بارے باچا خان مرکز پشاور میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کی

صوبائی انتظامی و نگران کمیٹی کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک نے کی۔ اجلاس میں اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک کے علاوہ صوبائی ترجمان ثمرہارون بلور، شاہی خان شیرانی، مختیار خان، شاکراللہ شینواری، ملک فقیر علی، پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد اور صائمہ منیر، جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی ترجمان عبدالجلیل جان، آصف اقبال داودزئی، مولانا امان اللہ حقانی، ن لیگ کے راشد محمود اور ملک ندیم، قومی وطن پارٹی کے طارق خان اور ڈاکٹر فاروق افضل، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے حیدر خان ایڈوکیٹ اور جمعیت اہلحدیث کے ڈاکٹر ذاکر شاہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں تمام کمیٹیوں نے رپورٹس پیش کیں۔ مشترکہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا کہ پی ڈی ایم پشاور جلسہ باقی جلسوں سے بڑا ہوگا اور صوبہ بھر سے عوام کا ایک سمندر پشاور امڈ آئے گا،ضلعی انتظامیہ کو 5 نومبر کو جلسہ گاہ سے متعلق درخواست بھیجی ہے لیکن ضلعی انتظامیہ نے تاحال اس متعلق کوئی مثبت جواب نہیں دیا، جلسہ کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا،ضلعی انتظامیہ تاخیری حربوں سے کام لے رہی ہے، لیکن ان کو خبردار کرتے ہیں کہ حکومت ہمیں اجازت دے یا نہ دیں، دلہ زاک روڈ پر عوام کا سمندر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ

اپوزیشن جماعتوں کے صرف تین ہی جلسوں نے حکومت کے اوسان خطا کر دئیے ہیں اور پشاور جلسہ کو ناکام بنانے کے لئے مختلف حربے استعمال کر رہی ہے، حکومت ایڈورٹائزنگ ایجنسیز اور ٹرانسپورٹرز پر دباو ڈال رہی ہے، سرکاری افسران کو حکومت کی جانب سے زبانی ہدایات دی جارہی ہیں لیکن اس سب کے باوجود پشاور کا جلسہ اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ پشاور جلسہ

ساری دنیا دیکھے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت پی ڈی ایم میں دراڑیں ڈالنے کے لئے ناکام کوششیں کررہی ہیں، اپوزیشن جماعتوں کا اپنا موقف ہوسکتا ہے مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپس میں اختلاف ہے،تمام اپوزیشن جماعتیں مل کرپی ڈی ایم کو توڑنے کے حربے ناکام بنائیں گے۔22 نومبر کو

پی ڈی ایم کی تمام مرکزی قیادت باچا خان مرکز سے اکھٹے جلسہ میں شرکت کے لئے جائے گی۔ سردارحسین بابک نے کہا کہ تمام جماعتیں وکلاء، اساتذہ، تاجران سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے رابطہ کیا جائیگا اور انہیں بھی جلسے میں شرکت کی دعوت دی جائیگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…