جمعہ‬‮ ، 31 جولائی‬‮ 2026 

وزیراعظم نے شہزاد اکبر کی موجودگی میں جیل کے ایک اعلی افسر سے ملاقات کی اور شہباز شریف،حمزہ شہباز کو کوئی سہولت نہ دینے کا حکم دیا، تہلکہ خیز انکشاف

datetime 31  اکتوبر‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ میرے علم کے مطابق جیل دروازے پر حمزہ شہباز کی پنجاب پولیس کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی جس پر انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا،وزیراعظم نے شہزاد اکبر کی موجودگی میں جیل کے ایک اعلی افسر سے ملاقات کی اور شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو کوئی سہولت نہ دینے کا حکم دیا۔ احتساب

عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے افسوسناک رویہ سامنے آیا ہے،حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے،8 بج کر 25 منٹ پر جیل حکام نے حمزہ شہباز کو پنجاب پولیس کے حوالے کیا لیکن ان کی لوکیشن کا ایک گھنٹے تک کوئی اندازہ نہیں ہوا،میرے علم کے مطابق جیل دروازے پر ان کی پنجاب پولیس کے ساتھ کوئی تلخ کلامی ہوئی جس پر انہیں پیش نہیں کیا گیا،پولیس نے موقف اختیار کیا کہ حمزہ شہباز نے پیش ہونے سے انکار کیا حالانکہ وہ قیدی ہوتے ہوئے کیسے انکار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے شہزاد اکبر کی موجودہ میں جیل کے ایک اعلی افسر سے ملاقات کی اور شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو کوئی سہولت نہ دینے کا حکم دیا۔پنجاب پولیس نے حمزہ شہباز کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا ہے وہ ہم برداشت نہیں کرینگے ہم نے جلاوطنی، جیلیں اور سب کچھ کاٹ چکے ہیں اور آپ کیا کر لیں گے۔نمل یونیورسٹی کے فنڈ ڈونرز کی تفصیلات ہمارے سامنے آ گئی ہیں،آپ الٹے بھی ہو جاؤ گے لیکن شہباز شریف کے نام کی ایک بھی ٹی ٹی سامنے نہیں لا سکو گے،عمران خان آپ ایک منٹ میں جیل میں نہیں گزار سکیں گے،ہم کسی کو بھاگنے نہیں دینگے اور آپ کے نام ای سی ایل میں ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جج جسٹس منیب اختر نے کہا کہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں کیسے ڈالا جائے جبکہ وہ کبھی فرار ہوئے ہی نہیں۔

شہزاد اکبر کا مقصد شہباز شریف کو جیل میں ڈالنا تھا اسی لئے شہباز شریف کے جیل میں ڈالنے کے بعد ان کی کوئی پریس کانفرنس نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی اور سی سی پی او کو لگا کر سیاسی مداخلت اور بھرتیاں جاری ہیں ہم بھی منہ پر ہاتھ پھیر سکتے ہیں لیکن ہماری ایسی تربیت نہیں آپ کے کریڈٹ پر ایک بھی منصوبہ نہیں ہے آپ کے جانے کا وقت آ گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…