بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی کوششیں تیز

datetime 4  جولائی  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)پارلیمانی لیڈرصوبائی اسمبلی وامیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اخترنے گرمی کی شدت اور لوڈشیڈنگ میں اضافے کے حوالے سے قرار داد پنجاب اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں جمع کروادی۔جمع کرائی جانے والی قرارداد میں کہاگیا ہے کہ ”جوں جوں گرمی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے توں توں لوڈشیڈنگ میں بھی غیر اعلانیہ اضافہ کردیا گیاہے۔نئے ڈیموں کی تعمیر کے بغیر بجلی کابحران ختم نہیں ہوسکتا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ وفاق کالاباغ ڈیم اور دیگرڈیموں کی تعمیر کے لئے تمام صوبوں میں اتفاق رائے پیداکرے تاکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے عوام کو نجات مل سکے۔یہ ایوان مطالبہ کرتاہے کہ وفاقی حکومت ڈیم کی تعمیرکے لئے ٹھوس اورموثراقدامات کرے“۔علاوہ ازیں ڈاکٹر سید وسیم اختر نے لوڈشیڈنگ میں ہوشربااضافے پر حکومت کوشدید تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ حکومت نے رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ کادورانیہ کم سے کم کرنے کے خوشنما دعوے کیے تھے مگر لوڈ شیڈنگ میں کمی کی بجائے مزید اضافہ کردیاگیاہے۔نمازتراویح ، سحر وافطاراور دیگر اوقات میںطویل غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نے روزہ داروں کواذیت ناک صورتحال سے دوچار کردیاہے۔ملک میں بجلی کاشارٹ فال دن بدن بڑھتاجارہا ہے۔اس وقت بجلی کا شارٹ فال 4ہزار سے تجاوز کرچکا ہے جس کی وجہ سے شہروں میں 10سے12اور دیہات میں 18سے20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ میں ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ توانائی بحران نے ملک وقوم کوناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔بجلی کے بحران کی وجہ سے معیشت بند پڑی ہے اور ملک کوقرض پر قرض لے کر چلایاجارہا ہے۔جب تک ملک میں جاری توانائی بحران کاخاتمہ نہیں ہوجاتا عوام کی زندگی میں خوشحالی نہیں آسکتی۔وزیراعظم نوزشریف نے2017تک لوڈشیڈنگ ختم کرنے کاعوام سے جووعدہ کیاہے خداکرے وہ انہیں یاد رہے۔ڈاکٹر سید وسیم اختر نے مزیدکہاکہ حکومتی وزراءنے رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ کم کرنے کے جودعوے عوام سے کیے تھے وہ بس سبزباغ ہی ثابت ہوئے ہیں۔بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ سے عوام کی مشکلات میں مزیداضافہ ہوچکا ہے رہی سہی کسر مہنگائی نے پوری کردی ہے۔اشیاءخوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ۔سستے بازاروںمیں ناقص اشیاءکی فروخت اورناجائزمنافع خوری کی شکایات مسلسل آرہی ہیں مگر انتظامیہ بے حسی کامظاہرہ کررہی ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…