اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

بالی ووڈ کی وہ فلم جوبھارتیوں کے بائیکاٹ کے باوجود ریلیز کر دی گئی

datetime 24  اکتوبر‬‮  2020 |

ممبئی (این این آئی)بالی وڈ اداکارعلی فضل کی پرانی ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پر بھارت میں کرائم تھرلر ویب سیریز مرزاپور 2 کے بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی تھی تاہم اس باوجود سیریز کو ریلیز کردیا گیا۔مرزاپور 2 ایمازون پرائم کی بھارت کی تیسری اویجنل ویب سیریز ہے، جسے 23 اکتوبر کو ریلیز کردیا گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق مرزاپور 2 کی ریلیز ہوتے ہی اس کے چرچے ہونے لگے

اور شائقین نے سیریز کے خلاف ہونے والے بائیکاٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے تھرلر کرائم سیریز کی کہانی کو پہلے سیزن سے بہتر قرار دیا۔مرزاپور 2 اسی نام سے 2018 میں ریلیز ہونے والی ویب سیریز کا دوسرا سیزن ہے، مذکورہ ویب سیریز میں ریاست اترپردیش اور بہار کے درمیان موجود علاقے پورو وانچل کے خطے میں ہونے والے جرائم اور تشدد پر مبنی سیاست کو دکھایا گیا ہے۔ویب سیریز کی کہانی فکشنل ہے تاہم سیریز میں جس علاقے کو دکھایا گیا ہے، وہ بھارت میں کئی سال سے تشدد کا مرکز رہا ہے اور وہاں الگ ریاست کے مطالبے اٹھتے رہے ہیں۔پرو وانچل علاقہ متعدد اضلاع پر مبنی ہے اور اسی علاقے کے لوگ مزید کچھ اضلاع کو ملاکر نئی ریاست کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں اور مذکورہ علاقے کو بھوجپوری زبان بولنے والوں کا سب سے بڑا علاقہ بھی مانا جاتاہے۔اسی علاقے سے لوک سبھا کے 30 اراکین جب کہ ریاست اترپردیش کی اسمبلی کے 170 کے قریب ارکان منتخب ہوتے ہیں۔مذکورہ ویب سیریز میں جہاں مرزاپور پر حکمرانی کی جنگ دکھائی گئی ہے، وہیں اسی علاقے میں سیاستدانوں کے جرائم پیشہ اقدام بھی دکھائے گئے ہیں۔مرزا پور 2 کا ٹریلر سامنے آنے کے بعد رواں ماہ بھارت میں انتہاپسند ہندوؤں نے مسلمان اداکار علی فضل کی پرانی ایڈٹ شدہ ایک ٹوئٹ پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے ویب سیریز کے بائیکات کی مہم چلائی تھی۔مرزا پور 2 کے اداکار علی فضل کی ایک پرانی ٹوئٹ کو ایڈٹ کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا اور اسی ٹوئٹ کو بہانا بنا کر مرزاپور 2 کے بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی تھی۔علی فضل کی جس ٹوئٹ کو بہانا بنا کر ‘مرزاپور 2’ کے بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی، وہ دراصل اداکار کی جعلی ٹوئٹ تھی۔علی فضل نے رواں برس اگست میں ‘مرزاپور 2’ کی جھلک شیئر کرتے ہوئے اسی ویب سیریز کا ایک ڈائیلاگ ‘شروع مجبوری میں کیے تھے، اب آئے گا مزہ’ لکھا تھا، جسے ایڈٹ کرکے اداکار کو بدنام کیا جا رہا ہے۔اداکار کی مذکورہ ٹوئٹ کو ایڈٹ کرکے رواں برس کے آغاز میں دارالحکومت نئی دہلی میں متنازع شہریت کے معاملے پر ہونے والے احتجاج کے دوران ہونے والے فسادات میں ہلاک ہونے والے پولیس افسر کے ہاتھ کی تصویر لگائی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…