لاہور( این این آئی )پاکستان کسان اتحاد نے اپنے مطالبات کے حق میں 20اکتوبر کو لاہور میں دھرنا دینے اور اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شوگر آرڈیننس 2020کو معطل کیا جائے ورنہ کپاس کی طرح گنے کے فصل بھی کھیتوں میں پڑی رہے گی ۔
پاکستان کسان اتحاد کے صدر چوہدری محمد انور کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت ٹیو ب ویل کے بجلی کے سابقہ ریٹ 5.35فی یونٹ کو بحال کرے ،کسان سے گندم1400روپے من خریدی گئی اب عوام کو آٹا 1400روپے من کے حساب سے دیا جائے ،190روپے من گنا خرید کیاگیا اس لئے اب چینی 70روپے فی کلو دی فراہم کی جائے ۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 80فیصد جعلی زرعی ادویات سے امسال کپاس کی فصل برباد ہو گئی ہے ،حکومت نے جعلی زرعی ادویات فروخت کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کیا کارروائی کی ؟،کسان جس نے کپاس کاشت کی ہے وہ معاشی طورپر باد ہوگیا ہے ،کپاس کی فصل نہ ہونے سے ملک اس سال اربوں ڈالر کے نقصان میں چلا گیا ہے ۔ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ شوگر آرڈیننس2020گنے کی کاشت کار کو مالی طوربرباد کردے گا کیونکہ شوگر مل مالکان کے خلاف حکومت جب پر جہ در ج کرے گی اورانہیں گرفتار کیا جائے تو وہ ًشوگر مل بند کردے گا پھر کسان کا گنا کون خرید ے گا، کسان جو گنا فروخت کرچکا ہے اس کی رقم کس سے وصول کرے گا مطالبہ ہے کہ شوگر آرڈیننس 2020کو معطل کیا جائے ورنہ کپاس کی فصل کی طرح گنا بھی کھیتوں میں پڑا رہے گااورکسان مجبور اًگنے کے کھیت کو آگ لگا کر اپنے بچوں کی روزی روٹی ختم کر بیٹھے گا۔