جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

فضائی سفر کی عالمی صنعت کو چھ ماہ میں 77 ارب ڈالر کا نقصان ہر کمپنی کے پاس کتنا سرمایہ بچا ہے ؟عالمی تنظیم ایاٹا کا اہم انکشاف

datetime 8  اکتوبر‬‮  2020 |

پیرس(این این آئی )فضائی سفر کی عالمی صنعت کی نمائندہ تنظیم ایاٹا نے کہاہے کہ رواں سال کی دوسری ششماہی میں اس انڈسٹری کو کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث مزید 77 بلین ڈالر کا نقصان ہو گا۔ اس کے علاوہ روزگار کے لاکھوں مواقع بھی خطرے میں ہیں۔

میڈیارپورٹس کے مطابق ایک بیا ن میں فضائی سفر اور مال برداری کی عالمی صنعت کی نمائندہ تنظیم انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن(ایاٹا)نے بتایا کہ گلوبل ایئر ٹریول انڈسٹری کو کووڈ انیس نامی مہلک بیماری کی وجہ بننے والے نئے کورونا وائرس کے باعث جس شدید بحران کا سامنا ہے، اس کے نتیجے میں اس صنعت کو پہلے ہی بیسیوں ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ایاٹا کی اس رپورٹ کے مطابق اس وقت بین الاقوامی سطح پر بزنس کرنے والی ایئر لائنز میں سے کسی بھی اوسط کمپنی کے پاس صرف اتنا سرمایہ باقی بچا ہے کہ وہ ساڑھے آٹھ ماہ تک کام کر سکے گی۔ اس کے بعد اگر مزید سرمایہ دستیاب نہ ہوا، تو بیشمار ایئر لائنز ممکنہ طور پر دیوالیہ ہو جائیں گی۔ایاٹا نے جو دنیا کی 290 فضائی کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم ہے، کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث اندرون ملک اور بیرون ملک فضائی سفر کا شعبہ اتنا بری طرح متاثر ہوا ہے کہ مجموعی طور پر اس سال صرف شمالی نصف کرہ ارض میں ایئر ٹریول کرنے والے مسافروں کی تعداد 2019 کے مقابلے میں 75.3 فیصد کم رہے گی۔

انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو الیکسانڈر دے یونیاک نے پیرس میں بتایاکہ عالمی سطح پر فضائی سفر کی صنعت اس حد تک بحران کا شکار ہے کہ گلوبل ایئر ٹریفک 2024 تک کورونا وائرس کی عالمی وبا سے پہلے کی سطح تک نہیں پہنچ سکے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…