گزشتہ سو برسوں میں یوں تو جنگی ہتھیاروں کی کئی اقسام اسلحہ کی مارکیٹ میں دیکھنے میں آئیں لیکن تین ایسی خطرناک ایجادات بھی ہوئیں کہ جنہیں اس صدی کے مہلک ترین ہتھیار کہا جا سکتا ہے کیونکہ انہوں نے جو تباہی مچائی ہے اس کا جواب نہیں پہلے نمبر پر ہم ایٹم بم کا ذکر کریں گے‘ مشہور یہودی النسل سائنس دان البرٹ آئن سٹائن جو امریکہ میں رہائش پذیر تھا اس نے 1945ءمیں ایٹم بم بنایا7 اور 19اگست 1945ء کو امریکہ نے بالترتیب جاپانی شہروں
ہیرو شیما اور ناگاساکی پر دو ایٹم بم گرائے کہ جس کے نتیجے میں ہیروشیما میں ایک لاکھ66 ہزار اور ناگاساکی میں 80 ہزار ہلاکتیں ہوئیں لیکن ان حملوں نے جاپان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ورنہ شاید دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ نہ ہوتا ‘ اس وقت ایٹم بم صرف امریکہ کے پاس تھا آج یہ کئی ملکوں کے پاس موجود ہے اور ایک خیال یہ ہے کہ چونکہ سپر پاورز اور دیگر کئی ممالک اب ایٹمی قوت بن چکے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ تیسری جنگ عظیم نہیں چھڑ سکتی ہے کیونکہ ان ممالک کو پتا ہے کہ اب کی دفعہ اگر جنگ چھڑی تو شاید دنیا کا کوئی ملک بھی مکمل تباہی سے نہ بچے‘ دوسرا تباہ کن ہتھیار جو گزشتہ سو سال کے عرصے میں بنایا گیا اس کا نام ہے ڈاٹنامائٹ اور یہ الفرڈ نوبیل نامی سائنسدان کی ایجاد ہے جتنی ہلاکتیں اس ایجاد کی وجہ سے ہوئیں یا ہو رہی ہیں ان کا حساب ہی نہیں الفرڈ نوبیل نے ڈائنا مائٹ1867 میں ایجاد کیا یہ ایجاد بارودی سرنگوں میں بھی استعمال ہو رہی ہے ریموٹ کنٹرول بم میں بھی اور خود کش جیکٹ میں بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ الفراڈ نوبیل اس ایجاد کے منفی استعمال پر سخت رنجیدہ ہو گیا تھا اسے اس پر دکھ تھا اور اس دکھ کے ازالے کے لئے اس نے نوبیل ٹرسٹ قائم کرکے امن نوبیل انعام کااجرائ کیا جو ہر سال امن کے حوالے سے گراں قدر خدمات انجام دینے والی دنیا کی عظیم شخصیات کو دیاجاتا ہے۔دنیا کا تیسرے نمبر پر تباہ کن ہتھیار اے کے 47 کلاشنکوف اسالٹ رائفل ہے جسے روس کے میخامل کلاشنکوف نے 1947ءمیں ڈیزائن کیا اور یہ رائفل اتنی کامیاب ہوئی ‘ اتنی کامیاب ہوئی کہ آج تک ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ رائفل دس کروڑ سے زائد کی تعداد میں دنیا بھر میں فروخت ہو چکی ہے اسے کئی ممالک کی آرمڈ فورسز بھی استعمال کرتی ہیں اسے دنیا بھر میں آزادی کی تحریکیں چلانے والے مسلح جنگجو بھی استعمال کرتے ہیں اور یہ ہر ملک میں اشرافیہ کے زیر تصرف بھی ہیں اس کے مقابلے میں امریکہ نے ایم16 اسالٹ رائفل بنائی تھی لیکن وہ ویٹ نام جنگ میں کلاشنکوف کے مقابلے میں فیل قرار دے دی گئی کسی زمانے میں کلاشنکوف رائفل اس ملک میں تین ہزار روپے میں میسر آجایا کرتی تھی اور اس میں استعمال ہونے والی گولی صرف ایک روپے میں دستیاب ہو جایا کرتی تھی جس طرح ڈائنا مائٹ کا خالق الفرڈ نوبیل اپنی ایجاد پر نادم تھا اسے پچھتاو ¿ تھا کہ اس کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔
اسی طرح کلاشنکوف کا خالق بھی اپنی اس ایجاد پر پشیمان تھا اپنی موت سے قبل ایک چرچ کے پادری کو اس نے ایک خط لکھا تھا اور اس بات کااعتراف کیا کہ اس کی ایجاد کلاشنکوف رائفل اس کے دل و دماغ اور روح پر ایک بھاری بوجھ ہے اور اسے شدت سے اس بات کا احساس اور رنج ہے کہ اس سے لاکھوں لوگ قتل کئے گئے ہیں اور اسے لگتا ہے کہ وہ ان سب ہلاکتوں کا ذمہ دار ہے وطن عزیز میں بھی 1980ءکی دہائی سے کلاشنکوف کلچر عام ہوا افغان مجاہدین افغانستان میں سوویت یونین کی افواج کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے اور امریکہ دھڑا دھڑا ان کو اسلحہ و بارود سے لیس کر رہا تھا اور اسلحہ کی اس کھیپ میں کلاشنکوف کی ہزاروں رائفلیں بھی شامل تھیں کہ جو امریکہ اوپن مارکیٹ سے خرید کر افغان مجاہدین کے حوالے کرتا اس قسم کی ”پراکسی وار“ میں کرپشن کا عنصر خواہ مخواہ پیدا ہو جاتا ہے کئی افغان دھڑوں نے یہ کلاشنکوف رائفلیں کھلی مارکیٹ میں بھی فروخت کیں اور آج کراچی میں بھی جرائم پیشہ لوگ اسے کثرت سے استعمال کر رہے ہیں۔
ایٹم بم کا خالق البرٹ آئن سٹائن خود تو پاگل نہ ہوا لیکن جن دو امریکی پائلٹوں نے ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے تھے وہ ساری عمر ڈپریشن کا شکار رہے کہ جب ان کو یہ پتہ چلا کہ ان کی بمباری سے کس قدر لوگ مارے گئے ہیں اسی طرح ڈائنا مائٹ اور کلاشنکوف رائفل کے موجد الفرڈنوبیل اور کلاشنکوف بھی جب تک بقید حیات رہے آخری دم تک اپنے آپ کو کوستے ہی رہے کہ یہ ان سے کیا غلطی ہو گئی ہے کہ ان کی ایجادات غلط لوگوں کے ہاتھ لگ گئیں کہ جن سے بے گناہ اور معصوم لوگوں کاخون بہایا جا رہا ہے۔



















































