منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ، کمپنیاں اربوں کا منافع کمانے لگیں

datetime 6  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن )ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد دوائیاں بنانے والی کمپنیوں کا منافع بھی بڑھ گیا ، ادویہ ساز کمپنیوں کے خالص منافعے میں 69 فیصد اضافہ ہوگیا ۔ اس حوالے سے موصول ہونے والی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں 5 بڑی کمپنیوں نے

خالص منافع کی مد میں 6 ارب روپے سے زائد کا فائدہ اٹھایا ، کورونا کے باعث روایتی ادویات کی فروخت میں کمی ہوئی تاہم اس عرصے میں وٹامنز اور سپلیمنٹ کی مانگ میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے دو سالوں میں ادویات کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے نتیجے میں کمپنیوں کا منافع بھی 69 فیصد تک بڑھ چکا ہے ، حالاں کہ اس عرصے میں ادویات کی فروخت صرف 4 فیصد بڑھی ، تاہم دوائیں مہنگی ہونے کی وجہ سے 5 بڑی کمپنیوں کے منافع میں 6 ارب 21 کروڑ 70 لاکھ روپے اضافہ ہوا۔ دوسری طرف ملک میں ہونے والے ادویات کی قیمتوں میں 260 فیصد تک اضافے نے مریضوں کی بڑی تعداد کو ادویات کی مقدار کم کرنے یا علاج چھوڑنے پر مجبور کردیا ، بڑی دوا ساز کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے باعث مارکیٹ میں ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی ۔تفصیلات کے مطابق فارماسسٹ اور کچھ ادویات بنانے والوں نے الزام عائد کیا کہ دوا سازی کی صنعت ان کی قیمت کو خام مال کی قیمت سے منسلک کرنے کے بجائے بجلی کی لاگت اور امریکی ڈالر سے منسلک کر کے اپنے کارڈ کھیل رہی ہے جبکہ خام مال کی قیمتیں تیزی سے 2 ہزار ڈالر سے 25 ڈالر تک کم ہوچکی ہیں ، جب کہ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ مقامی مارکیٹ میں ان کی قلت کو ختم کرنے میں مدد فراہم کرے گا کیوں کہ بہت سے مریضوں کو درآمد کردہ ادویات خریدنی پڑتی ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…