اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

ساڑھے تین ارب روپے مالیت کے ٹوائلٹ کی خلا میں روانگی

datetime 4  اکتوبر‬‮  2020 |

نیویارک (این این آئی) امریکی خلائی ادارے ناسا نے دو کروڑ 30 لاکھ ڈالر (تقریباً ساڑھے تین ارب روپے) ایک ٹوائلٹ کے لیے فلش کر دیئے۔ ٹائٹینیم دھات سے بنے نئے ٹوائلٹ کو عالمی خلائی مرکز پر ٹیسٹ کے لیے روانہ کیا جائے گا، اسے مستقبل میں چاند پر بھیجے جانے والے مشنز میں بھی استعمال میں لایا جائے گا۔جانسن سپیس سینٹر سے وابستہ میلیسا میک کینلی نے لانچ سے پہلے

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ گندگی کو صاف کرنا ایک بہت اہم بات ہے۔ ہم اس میں کسی قسم کی کمی یا فرار نہیں چاہتے۔خبر رساں ادارے کے مطابق 100 پاؤنڈ وزنی اور 28 انچ اونچا یہ پروٹو ٹائپ ٹوائلٹ اس وقت مدار میں موجود روسی ٹوائلٹ کے نصف حجم کے برابر ہے اور مستقبل قریب میں چاند پر خلا بازوں کو لے جانے والے ناسا کے اوریئن کیپسول اور ممکنہ طور پر مزید آگے یعنی مریخ پر بھیجے جانے والے مشنز پر فٹ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔اگرچہ پرانے ٹوائلٹ مردوں کے لیے زیادہ موزوں تھے لیکن اس اپ گریڈ ورڑن میں میں سیٹ جھکی ہوئی اور تھوڑی اونچی ہے جس کو خواتین کے لیے بہتر انداز میں ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے۔ اس سے یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ناسا خفیہ طور پر مریخ پر بھیجے جانے والے مشنز میں صرف خواتین کو شامل کرنا چاہتا ہے۔کینیڈی سپیس سنٹر سے 31 اکتوبر کو لانچ ہونے والے دوسرے سپیس ایکس کے عملے کے کمانڈر اور ناسا کے خلاباز مائیک ہاپکنز نے اے پی کو بتایا کہ ‘پرانا ڈیزائن خاص طور پر استعمال میں مشکل نہیں تھا لیکن بعض اوقات آسان چیزیں بھی بہت مشکل ہوجاتی ہیں۔خلاباز شینن واکر اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یقین کریں خلا میں باتھ روم جانا سیکھ لیا ہے کیوں کہ یہ جاننا ایک انتہائی اہم اور ضروری ہے کہ اسے کیسے استعمال کرنا ہے۔ یہ دراصل ایک ویکیوم سسٹم کی طرح کام کرتے ہیں لہذا تصور کریں کہ اگر آپ کے پاس ویکیوم کلینر موجود ہے اور جو چیزوں کو کھینچ رہا ہے۔ آپ ایک بڑا پنکھا چلائیں گے

اور سب کچھ بیت الخلا میں کھینچا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک لمبی قیف ہے جو تمام پیشاب کو جمع کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور پھر ایک اور سیٹ ہے جس پر آپ بیٹھ سکتے ہیں، پھر وہی پنکھا تمام مواد کو کھینچ لیتا ہے اور ایک جگہ جمع کر دیتا ہے۔فی الحال پانی پر مشتمل فضلے جیسے پیشاب اور پسینے کو 90 فیصد تک ری سائیکل کیا جاتا ہے اور مسز میئر کا کہنا ہے کہ مریخ تک پہنچنے کے لیے پہلے انسانی مشن سے پہلے ری سائیکلنگ کی شرح کو 98 فیصد تک بڑھانے کی ضرورت ہوگی۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…