اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

واردات کےوقت ہم ہوش میں نہیں تھے کیونکہ ۔۔۔۔ بچوں کو سڑ ک سے نیچے لے کر گئے تو خاتون پیچھے آئی،جہاں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا ،گرفتار ملزم شفقت کے انکشافات

datetime 14  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)موٹروے متاثرہ خاتون کیس میں دیپالپور سے گرفتار شفقت نے اپنے پہلے بیان میں کچا چٹھا کھول دیا ۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملزم کی جانب سے ریکارڈ بیان میں کہا گیا کہ اس اور ملزم عابد علی نے مل کر خاتون کو لوٹ پھر اس کی عزت روند ی، پولیس کے پہنچتے ہی ہم وہاں سے فرار ہو گئے ۔ موٹروے پر ڈکیتی کیلئے عابد نے دعوت دی تھی ۔

ابتدائی طور پر 3 لوگ عابد علی، شفقت علی اور بالا مستری واردات کرنے والے تھے ۔ اس کیلئے عابد علی نے باقی دونوں ملزمان کو لاہور سے بلوایا تھا ۔ تینوں ہی واردات کیلئے ایک ساتھ نکلے لیکن بالا مستری راستے سے ہی واپس لوٹ گیا تھا۔ واقعے پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ عابد علی نے اس رات خاتون کے شیشہ نیچے کرنے پر پتھر سے گاڑی کا شیشہ توڑا جس سے اس کا ہاتھ زخمی ہو گیا تھا ، عابد علی کا ہاتھ زخمی ہونے کی وجہ سے کچھ قطرے گاڑی کے شیشے پر لگ گئے تھے ۔ عابد علی اور شفقت نے ملک کر 11وارداتیں کی ہیں اس رات دونوں ہوش میں نہیں تھے ، انہوں نے مہ نوشی کر رکھی تھی ۔ قبل ازیں موٹر وے کیس کے ملزم وقار الحسن جس نے خود اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے، اس کے بھائی محمد بشیر نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جس رات یہ وقوعہ پیش آیا میرا بھائی اس وقت مجلس پڑھنے گیا ہوا تھا اور اس بات کاگواہ بھی موجود ہے، اس بات کا گواہ بھی موجود ہے۔ محمد شبیر نے بتایا کہ ہمارے گھر پولیس والے آئے وقار کے بارے میں پوچھ گچھ کی، اس وقت مجھے فون کیا گیا میں فیکٹری میں تھا، میں نے وقار کو فون کیا تو اس نے کہاکہ وہ مجلس پڑھنے آیا ہوا ہے اس کے بعد وقار نے فون بند کر دیا۔دوسری جانب موٹر وے کیس میں خود پولیس کو گرفتاری پیش کرنے والے ملزم وقار الحسن کی والدہ نے کہاہے کہ میرے بیٹے نمازی پرہیزگار ہیں،وقار میں کوئی عیب ہوتا تو پیش ہی نہیں ہوتا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے

وقار الحسن کی والدہ نے کہا کہ میرا ایک بیٹا بیمار ہے، دوسرے بیٹے وقار کو جب واقعے کا پتا چلا تو اس نے کہا کہ میں پیش ہو رہا ہوں۔والدہ وقار الحسن نے کہاکہ میرے بیٹے نمازی پرہیزگار ہیں ان کی زندگی بخش دی جائے، اگر میرے بیٹے میں کوئی عیب ہوتا تو وہ پیش ہی نہ ہوتا۔وقار الحسن کی والدہ نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی قلعہ ستار شاہ میں موٹر سائیکل مرمت کی دکان ہے،

وقار کی 4 بیٹیاں اور 2 بیٹے ہیں۔انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے اپیل کی کہ میرے بیٹے کے ساتھ انصاف کیا جائے۔خیال رہے کہ موٹر وے کیس میں نامزد ایک ملزم وقار الحسن نے سی آئی اے ماڈل ٹاؤن میں جا کر خود اپنی گرفتاری پیش کی تھی جبکہ دوسرا ملزم عابد تاحال مفرور ہے اور پولیس اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…