پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

سی سی پی او تو اپنے آئی جی کا حکم نہیں مانتے کسی اور افسر کو حکم دے دیتے ہیں،لاہور ہائیکورٹ کے سی سی پی او لاہور بارے حیرت انگیز ریمارکس

datetime 11  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے ماحولیاتی آلودگی کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیں کہ سی سی پی او تو اپنے آئی جی کا حکم نہیں مانتے، کسی اور افسر کو حکم دے دیتے ہیں، جبکہ عدالت نے پلاسٹک بیگز پر پابندی کے حکم کی خلاف ورزی پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق کی درخواست

پر سماعت کی۔ فاضل عدالت نے استفسار کیا کہ فصلوں کو جلانے پر دفعہ144 کے نفاذ کا کیا بنا؟، جس پر سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ حکومت پابندی کے حوالے سے اقدامات کر رہی ہے۔درخواست گزار وکیل نے کہا کہ محکمہ ماحولیات آلودگی پھیلانے والے صنعتی یونٹس کیخلاف کارروائی کرتا ہے مگر پولیس تعاون نہیں کرتی، محکمہ تحفظ ماحول کی درخواست پر متعلقہ پولیس مقدمہ بھی درج نہیں کرتی۔درخواست گزار نے استدعا کی کہ سی سی پی او کو محکمہ ماحولیات سے تعاون کرنے کا حکم دیا جائے۔جسٹس شاہد کریم نے درخواست گزار وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سی سی پی او کو کیوں کہنا ہے وہ تواپنے آئی جی کی بھی نہیں سنتے۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ عدالت نے پلاسٹک بیگز پر پابندی کا حکم دیا تھا لیکن ڈی ایچ اے حکم کی تعمیل نہیں کر رہا، ڈی ایچ اے حکام محکمہ ماحولیات کی جانب سے سربمہر کی گئی دکانیں دوبارہ کھول دیتے ہیں، ڈی ایچ اے حکام کہتے ہیں کہ وہ محکمہ تحفظ ماحول کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔ ماحولیاتی آلودگی کمیشن کے وکیل نے کہا کہ اینٹی سموگ ٹاور بنانے والی آئی جی سی نامی این جی او نے پائلٹ پلان شروع کیا ہے۔عدالت نے ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے اور پولیس کو معاونت کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے وکلا ء کو مزید دلائل کیلئے طلب کرلیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…