اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

موجودہ ’’سیٹ اپ‘‘ کو لانے والے اب خود’’ اپ سیٹ‘‘ نظر آتے ہیں،کیا تبدیلی ہونے جا رہی ہے؟ حافظ حسین احمد کا دعویٰ

datetime 10  ستمبر‬‮  2020 |

کوئٹہ( آن لائن ) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان و سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں ڈھونگ کے ذریعے جو’’ نیم فوجی حکومت ‘‘ عوام پر مسلط کی گئی تھی دو سال کے پے در پے ناکامیوں کے بعد اب تبدیلی لانے والی قوتیں ’’نیم فوجی حکومت‘‘ کو نئی ’’ قومی حکومت‘‘ میں تبدیل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم

میں مختلف وفود اور صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے، اس موقع پرمولانا شبیر احمد لقمان علیپوری جنرل سیکریٹری جے یو آئی ضلع مظفر گڑھ، مرید حسین گوپانگ رکن مجلس عمومی مظفر گڑھ، حافظ مسعود احمد جنرل سیکریٹری ڈیرہ اللہ یار، عمر فاروق ضلعی معاون کنوینر جے ٹی آئی کوئٹہ، محمد امین بھنگر، اقلیتی رہنما ڈاکٹر درشن کمار، ڈاکٹر اوم پرکاش اور دیگر موجود تھے۔ حافظ حسین احمد نے مزید کہا کہ موجودہ ’’سیٹ اپ‘‘ کو لانے والے اب خود’’ اپ سیٹ‘‘ نظر آتے ہیں اس لیے اب جامع منصوبہ بندی کا آغاز کردیا گیا ہے اور بدقسمتی سے ایک بار پھر مشہور زمانہ نیب کے ذریعے اپوزیشن رہنماؤں کو شکنجے میں کسنے کا عمل تیز کردیا گیا ہے جس کے نتیجے میں اپوزیشن کے بعض نمایاں رہنماؤں کو قومی حکومت کی تشکیل میں حصہ لینے پر مجبور کیا جاسکتا ہے اس منصوبے کی گونج اب اپوزیشن حلقوں میں بھی سنائی دینے لگی ہے ، انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن کے بعض رہنماؤں نے وہی اندازاپنانے کی کوشش کی جو ماضی کے دو سالوں میں انہوں نے روا رکھا ہے پھر اے پی سی اور اپوزیشن کی حکومت کے خلاف مجوزہ تحریک ناممکن نظر آتی ہے البتہ اس کے بجائے ہومیو پیتھک احتجاج کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے ، جمعیت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے منتشر شیرازہ کو متحد کرنے کا یہ آخری موقع ہوگا۔ سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ 2018ء کے انتخابات

میں ڈھونگ کے ذریعے جو’’ نیم فوجی حکومت ‘‘ عوام پر مسلط کی گئی تھی دو سال کے پے در پے ناکامیوں کے بعد اب تبدیلی لانے والی قوتیں ’’نیم فوجی حکومت‘‘ کو نئی ’’ قومی حکومت‘‘ میں تبدیل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…