اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

ضروریات زندگی غریب کی پہنچ سے دور، کھانے پینے کی تمام تر اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں

datetime 8  ستمبر‬‮  2020 |

قصور (این این آئی ) ضروریات زندگی کھانے پینے کی اشیاء خوردونوش سبزیوں، دودھ دہی، دالوں، آٹے، پھلوں،چینی، چائے پتی کی قیمتوں میں عدم استحکام سے غریب کی پہنچ سے دور کھانے پینے کی کوئی بھی اشیاء سرکاری نرخوں پر ملنا نایاب غریب عوام زندگی کے عذاب میں مبتلا ۔تفصیلات کے مطابق ضروریات زندگی کی کھانے پینے کی تمام تر آشیاء سبزی، دالیں، دودھ دہی،

چینی، آٹے، چائے پتی، پھلوں میں آئے دن قیمتوں میں عدم استحکام اور مسلسل اضافے کے باعث دن بدن قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں پیاز، ٹماٹر، لہسن ، ادرک، لیمن دیگر مثالہ جات، کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ سے غریب کی قوت خرید سے باہر ہوگیا ہے ہر دوکاندار اور ریڑھی بان مارکیٹ کمیٹی کی نام نہاد سرکاری لسٹ کونظر اندز کر کے من مانی قیمتں وصول کررہا ہے مارکیٹ عملہ کی ڈیوٹی غفلت سے موسمی سبزیاں،پھل بھی غریب کی دسترس سے دور ہوگئیں ہیں یومیہ دیہاڈیدار مزدور اپنے بچوں کو دال روٹی مہیا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ غریب آدمی کے مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں غریب غریب تر اور عوام کا خون چوسنے والے سیاستدان امیر سے امیر تر ہوتے جارہے ہیں جسکی وجہ سے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ھے۔بے بس مجبور عوام مہنگی داموں خریدنے پر مجبور ہیں “صحافتی” سروے پر متاثرین شہریوں، عوامی، فلاحی، سماجی سربراہان، سول سوسائٹی حلقوں، ڈسڑکٹ بار کے سینئر ووکلا نے حکام بالا، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنرز، ڈیوٹی مجسٹریٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیکر خود ساختہ مہنگائی کو روکا جائے اور سرکاری نرخوں پر سبزیاں فروخت نہ کرنے والے دوکانداروں کے خلاف سخت سے کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ غریب عوام کو بھی جینے کا بنیادی حق میسر ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…