جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

اگر احمد نورانی کی خبر غلط تو پھر عاصم سلیم باجوہ نے استعفیٰ کیوں دیا ؟ چیئرمین سی پیک اتھارٹی کے عہدے سے استعفیٰ کیو ں نہیں دیا ؟ سینئر صحافی حامد میر نے عاصم باجوہ کے استعفے پر سوالات اٹھا دیے

datetime 4  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار و اینکر پرسن حامد میر نے عاصم سلیم باجوہ کا وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دینا پر سوالا ت کھڑے کر دیئے ۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر انہوں نے لکھا کہ ’’ اگر صحافی احمد نورانی نے غلط خبر بریک کی تھی تو عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم کے معاون خصوصی کا عہدہ کیوں چھوڑا ؟

ایک وقت میں خبر کی تردید پھر استعفیٰ دینے کی وجہ کیا ہے ؟انہوں نے چیئرمین سی پیک اتھارٹی کے عہدے سے استعفیٰ کیوں نہیں دیا ؟ یا سٹوری کی مخالفت غلط ہے یا پھر ان کا استعفیٰ دینا غلط ہے ۔دوسری جانب عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کو اپنا استعفیٰ پیش کردیں گے اور ان سے درخواست کریں گے کہ معاون خصوصی کے عہدے سے سبکدوش کردیں۔ عاصم باجوہ نے کہا کہ ’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میری توجہ ایک طرف ہونی چاہیے ، اسی لیے معاون خصوصی اطلاعات کے عہدے سے استعفی دینے کا فیصلہ کیا ہے‘۔ عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ بہت سے لوگوں کے مشورے کے باوجود تفصیل سے وضاحت دی ہے، وزیراعظم بھی میری وضاحت کو دیکھ چکے ہیں، پاکستان میں جہاں بھی منی ٹریل یا دستاویز دینے کی ضرورت ہو پیش کرنے کیلئے تیار ہوں، کسی فورم پر تفصیل یا ثبوت چاہئیں تو میرے پاس موجود ہے یا اکٹھے کرسکتا ہوں، اہل خانہ کے مشورے سے معاون خصوصی اطلاعات کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔سی پیک اتھارٹی میں اس وقت بہت زیادہ فوکس چاہئے اس لئے ساری توجہ وہاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے، محکمہ اطلاعات میں بہت قابل لوگ ہیں وہ کام ان کیلئے چھوڑوں گا، معاون خصوصی اطلاعات کے عہدے سے استعفیٰ کل وزیراعظم کو پیش کروں گا۔امید ہے وزیراعظم مجھے سی پیک میں مزید توجہ دینے کی اجازت دیں گے، سی پیک میں بہت اچھی ٹیم بن رہی ہے اور اچھا مومنٹم ہے، سی پیک کا اسکوپ آئندہ مزید بڑھتا جائے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…