پیر‬‮ ، 13 اپریل‬‮ 2026 

ڈاکٹر ماہا علی کیس ، ملزم عرفان قریشی ضمانت پر رہا جنید اور وقاص نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی

datetime 1  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)عدالت نے ڈاکٹر ماہا کی خودکشی کے کیس میں نامزد ملزم عرفان قریشی کو ضمانت پر رہا کردیا۔سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے ڈاکٹر ماہا خودکشی کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں پولیس نے ملزم عرفان قریشی کو عدالت میں پیش کیا۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ کیس میں نامزد دیگر 2 ملزمان وقاص اور جنید مفرور ہیں۔

ملزم عرفان قریشی نے عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کی درخواست منظور کرلی۔عدالت نے عرفان قریشی کو 5 لاکھ روپے زر ضمانت کے عوض رہائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو کیس سے بری نہیں کیا جارہا ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ پولیس مکمل تحقیقات کے بعد کیس کا چالان پیش کرے گی۔جبکہ مقدمے میں نامزد 2 ملزمان جنید اور وقاص نے عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی۔عدالت نے 50،50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ملزمان کی عبوری ضمانت منظور کی اور پولیس کو 5 ستمبر تک ملزمان کی گرفتاری سے روک دیا۔عدالت نے ملزمان کو پولیس کے ساتھ تفتیش میں شامل ہونے کا بھی حکم دیا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ڈیفنس میں خاتون ڈاکٹر ماہا علی نے گولی مار کر خودکشی کرلی تھی۔ڈاکٹر ماہا کے والد نے ملزمان کے خلاف ہراساں کرنے اور بلیک میلنگ کا مقدمہ درج کرایا ہے۔دوسری جانب اچی کے علاقے ڈیفنس میں خودکشی کرنے والی ڈاکٹر ماہا علی کو گولی لگنے کے ابہام اور تضاد ختم کرنے کے لیے قبر کشائی اور میت کا پوسٹ مارٹم کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ بشیر احمد بروہی کے مطابق ڈیفنس میں خودکشی کے جائے وقوعہ کے معائنے سے شواہد ملے کہ ڈاکٹر ماہا علی کو گولی سر میں سیدھے ہاتھ سے لگی تھی۔ جناح اسپتال کے ایم ایل او ڈاکٹر حسان احمد نے

پوسٹ مارٹم کیے بغیر ماہا علی کی موت کی میڈیکل رپورٹ جاری کردی تھی۔ ایم ایل او ڈاکٹر حساناحمد کی جاری کردہ رپورٹ میں متوفیہ کو گولی الٹے ہاتھ سے لگنے کا ظاہر کیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق متوفیہ کے والد نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں ایم ایل او اور ملزمان کی ملی بھگت کا الزام عائد کیا تھا، میڈیکل رپورٹ اور جائے وقوعہ کے شواہد میں تضاد نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے،

میت کے پوسٹ مارٹم سے قانونی طور پر معاملہ کلیئر ہو جائے گا۔ایس ایس پی بشیر بروہی کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد گرفتار ملزمان کو مقدمہ کے ٹرائل میں میڈیکل رپورٹ سے فائدہ ہوگا، ڈاکٹر ماہا علی کی میت کا پوسٹ مارٹم کرنے سے صحیح میڈیکل رپورٹ بنے گی۔ایس ایس پی بشیر بروہی کے مطابق قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے انوسٹی گیشن پولیس کی جانب سے عدالت کو لکھا جائے گا، عدالتی حکم پر پولیس سرجن، ایم ایل اوز اور ڈاکٹروں کی ٹیم میرپور خاص جاکر قبر کشائی کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…