منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

پشاور میں اغوا کی وارداتیں منافع بخش کاروبار بن گئیں

datetime 1  جولائی  2015 |

 پشاور(نیوزڈیسک)پشاور میں اغواء کی وارداتیں ایک منافع بخش کاروباربن چکی ہیں۔ بعض واقعات میں بچیوں کو اغواء کرکے سرحد پار افغانستان میں بیچ دیاجاتا ہے۔ پشاور کے نواحی دیہات احمد خیل سے عائشہ نامی بچی کو یکم مارچ کو مدرسے جاتے ہوئے راستے سے اغواء کیاگیا اور بعد ازاں وہ افغانستان سے بازیاب ہوئی۔ عائشہ کی خوش قسمتی تھی کہ وہ افغان پولیس کی ایک کارروائی میں بازیاب ہوکر واپس گھر پہنچ گئی۔ اس کے والد کہتے ہیں کہ اغواء کار خاتون افغان پولیس کی حراست میں ہے۔ دوسری جانب عائشہ کو واپس پاکر پورا خاندان خوش ہے۔ اغواء کار خاتون نگینہ افغان پولیس کی حراست میں ہے۔ یہ بچیاں اور خواتین اغواء ہوکر آخر جاتی کہاں ہیں، ایساسوال ہے جس کا جواب نہیں مل پایا تاہم اس مسئلے پر کام کرنےوالے ماہرین کہتے ہیں کہ ان اغواء ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ چیک کیاجائے بارڈر پر کہ یہ افغان بچے ہیں یا نہیں۔ پشاور میں بچو ں کے اغواء کے زیادہ تر کیسز پسماندہ علاقوں میں سامنے آئے ہیں۔ درجنوں کیسز ایسے ہیں جس میں بدنامی کے خوف سے رپورٹ پولیس تک پہنچتی ہی نہیں۔ پولیس کہتی ہے کہ پشاور میں رہائش پذیر افغان باشندے اغواء کی وارداتوں میں ملوث ہی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…