ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

صدام حسین محاذ جنگ پر اپنے ساتھ کیا چیز لے کر جاتے تھے؟ باورچی کا انکشاف

datetime 24  اگست‬‮  2020 |

بغداد (آن لائن) سابق عراقی صدر صدام حسین کے باورچی نے انکشاف کیا ہے کہ وہ محاذ جنگ پر بھی پسندیدہ پکوان لے جاتے تھے۔ پولینڈ کے معروف مصنف یتولد زیبلوفسکی نے اپنی تصنیف ’ڈکٹیٹر کے دسترخوان‘ میں صدام حسین کے باورچی کا علامتی نام ابو علی بتایا ہے۔ابو علی نے بتایاکہ صدام حسین کو خاص انداز سے پکائے جانے والے کھانے اچھے لگتے ہیں۔ صدام حسین اس وقت تک کسی بھی کھانے

کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتے تھے تاوقتیکہ ان کی سکیورٹی ٹیم وہ کھانے چکھ کر رپورٹ نہ دے۔ اس قسم کے سخت حفاظتی انتظامات اس ڈر سے کیے جاتے تھے کہ کہیں کسی نے پکوان میں زہر نہ ملا دیا ہو۔۔ حد تو یہ ہے کہ 1980 سے 1988 کے دوران ایران اور عراق کے درمیان جاری جنگ کے دوران محاذ جنگ پر بھی وہ اپنے پسندیدہ پکوان لے کر جایا کرتے تھے۔ابو علی نے بتایا کہ ایک مرتبہ عجیب و غریب واقعہ پیش ا?یا۔ صدام حسین کو عربی کوفتے پسند تھے۔ ان کی ضد تھی کہ وہ عراق میں دریائی سیر کے دوران اپنے مہمانوں کو خود اپنے تیار کردہ کوفتے کھلائیں گے۔ دلچسپ ماحول اس وقت بنا جب انہوں نے کوفتے میں گرم مصالحے بہت زیادہ بھر دیے ۔ ابوعلی نے بتایا کہ صدام حسین فرزند عراق تھے۔انہیں بھنڈی کا سوپ، دال کا سوپ اور مچھلی کا سوپ بے حد مرغوب تھا۔ وہ کوئلوں پر سینکی ہوئی مچھلی بے حد رغبت سے کھاتے تھے۔  سابق عراقی صدر صدام حسین کے باورچی نے انکشاف کیا ہے کہ وہ محاذ جنگ پر بھی پسندیدہ پکوان لے جاتے تھے۔ پولینڈ کے معروف مصنف یتولد زیبلوفسکی نے اپنی تصنیف ’ڈکٹیٹر کے دسترخوان‘ میں صدام حسین کے باورچی کا علامتی نام ابو علی بتایا ہے۔ابو علی نے بتایاکہ صدام حسین کو خاص انداز سے پکائے جانے والے کھانے اچھے لگتے ہیں۔ صدام حسین اس وقت تک کسی بھی کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتے تھے تاوقتیکہ ان کی سکیورٹی ٹیم وہ کھانے چکھ کر رپورٹ نہ دے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…