اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

سونے کی قیمت میں پھر تیزی کاروبار ی ہفتے کے دوسرے روز ہی فی تولہ قیمت میں بڑااضافہ

datetime 18  اگست‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن،مانیٹرنگ ڈیسک) رواں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز شہر کی صرافہ مارکیٹوں اور بازاروں میں خالص سونے کی قیمت میں 1ہزار روپے فی تولہ مزید اضافہ کردیا گیا۔ جس کے بعد ان مارکیٹوں اور بازاروں میں 24 قیراط سونے کی قیمت 1 لاکھ 21 ہزار روپے اور 22 قیراط سونے کی قیمت 1 لاکھ 10 ہزار 920 روپے کی سطح پر دیکھنے میں آئی۔

پاکستان اور عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافہ اس وقت دیکھنے میں آ رہا ہے جب کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں معاشی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں۔پاکستان میں سونے کے کاروبار سے وابستہ افراد کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ اس قیمتی دھات میں عالمی سطح پر بھاری سرمایہ کاری ہے، جسے موجودہ غیر یقینی معاشی صورت حال میں سب سے محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جا رہا ہے۔ان کے مطابق دوسرے لفظوں میں سونے کی ذخیرہ اندوزی عالمی اور مقامی سطح پر زور و شور سے جاری ہے جس نے اس کی قیمت میں بے پناہ اضافے کو جنم دیا ہے۔سونے میں سرمایہ کاری کو اس وقت دنیا بھر میں محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں عارف حبیب کموڈٹیز کے چیف ایگزیکٹیو احسن محنتی کا کہنا ہے کہ دنیا میں جب بھی معاشی طور پر غیر یقینی صورتحال ابھری ہے تو سونے میں سرمایہ کاری کو محفوظ سمجھا جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ سونے میں سرمایہ کاری سے دو فائدے ہوتے ہیں ایک تو سرمایہ کاری محفوظ رہتی ہے اور دوسرا سرمائے کی قدر بھی بڑھتی ہی رہتی ہے۔انھوں نے کہا کہ شرح سود پاکستان سمیت دنیا بھر میں کم ہوا ہے جس کی وجہ سے بنکوں میں پیسے رکھنے سے کوئی خاص منافع حاصل نہیں ہوتا اور اس طرح سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھا ئوسرمایہ کار کو خوف میں مبتلا رکھتا ہے۔اس صورت حال میں سونے میں سرمایہ کاری سب سے محفوظ ہے کہ جس میں منافع بھی اچھا ملتا ہے اور کوئی نمایاں خدشہ بھی نہیں جس کی وجہ سے یہ فی الحال دنیا بھر میں سرمایہ کاروں کے نزدیک سب سے پرکشش اور محفوظ سرمایہ کاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…