اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

عوامی مشکلات میں مزید اضافہ، دودھ کی قیمتیں بڑھانے کی تیاریاں مکمل

datetime 26  جولائی  2020 |
دودھ کی قیمت

کوئٹہ(این این آئی) ڈیری فارمز مالکا ن نے کوئٹہ شہر میں دودھ کی قیمتوں کو 15سے 20 روپے تک بڑھانے کی تیاریاں کرلیں،یکم اگست سے دودھ کے ہول سیل نرخ بڑھا کر 112روپے مقرر کرنے کا فیصلہ، گھریلو صارفین کو 122 روپے کا فروخت کیا جائے گا، انتظامیہ کے ساتھ گھٹ جوڑ کر لیا گیا۔ باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈیری فارم مالکان نے دودھ کے نرح 94روپے سے بڑھا کر 112روپے فی لیٹر کرنے کی تیاریاں کرلی ہیں

اس حوالے سے ڈیری مارم مالکان نے انتظامیہ کے کچھ اہلکاروں کی پشت پناہی بھی حاصل کرلی ہے کوئٹہ میں دودھ کا سرکاری نرخ 94 روپے ہے جبکہ گھریلو صارفین کو دودھ 100سے 110روپے فی لیٹر فروخت کیا جاتاہے جبکہ ڈیری فارم مالکان نے اب دودھ کی قیمت 112روپے فی لیٹر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد گھریلو صارفین کو دودھ 122روپے فی لیٹر تک فروخت کیا جائیگا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈیری فارم مالکا ن کی جانب سے دودھ کے نرخ یکم اگست سے شروع ہونے والے مہینے سے بڑھا ئے جائیں گے۔ تاہم دکاندار اس فیصلے سے نا خوش ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس اضافے کے ردعمل کا دکانداروں کو گرفتاریاں اور عوام کی ناراضی کی صورت سامنا کرنا پڑتا ہے، انہوں نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ممکنہ اضافے کا فوری نوٹس لیں اور مالکان کو سرکاری نرخ پر دودھ کی سپلائی ممکن بنائیں۔  ڈیری فارمز مالکا ن نے کوئٹہ شہر میں دودھ کی قیمتوں کو 15سے 20 روپے تک بڑھانے کی تیاریاں کرلیں،یکم اگست سے دودھ کے ہول سیل نرخ بڑھا کر 112روپے مقرر کرنے کا فیصلہ، گھریلو صارفین کو 122 روپے کا فروخت کیا جائے گا، انتظامیہ کے ساتھ گھٹ جوڑ کر لیا گیا۔ باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈیری فارم مالکان نے دودھ کے نرح 94روپے سے بڑھا کر 112روپے فی لیٹر کرنے کی تیاریاں کرلی ہیں اس حوالے سے ڈیری مارم مالکان نے انتظامیہ کے کچھ اہلکاروں کی پشت پناہی بھی حاصل کرلی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…