اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

سٹیٹ بینک نے 2016سے2019ء کے درمیان بینکوں کے حوالے سے درج شکایات بارے جائزہ رپورٹ جاری کر دی

datetime 23  جولائی  2020 |

لاہور( این این آئی) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2016سے2019ء کے درمیان بینکوں کے حوالے سے درج کرائی گئی شکایات بارے جائزہ رپورٹ جاری کر دی جو2016 میں 774,656 سے بڑھ کر 2019 میں 1,549,837 ہوگئیں۔ اعلامیے کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینکوںڈی ایف آئیزایم ایف بیز کے خلاف 2016 تا 2019 کی شکایات کا جائزہ لیا گیا۔

گشتہ چار برسوں کے دوران بینکوں کے خلاف شکایات 2016 میں 774,656 سے بڑھ کر 2019 میں 1,549,837 ہوگئیں۔ یہ اضافہ اس لیے ہوا کہ تنازع کے تصفیے کے طریقہ کار سے اب زیادہ لوگ واقف ہیں اور اس تک رسائی بہتر ہوگئی ہے ۔ساتھ ہی ساتھ صارفین کی آگہی بھی بڑھی ہے۔ مزید برآں اس کی یہ وجہ بھی ہے کہ بینکاری ٹرانزیکشنز کی تعداد اور مالیت میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ اعلامیے کے مطابق زیر جائزہ مدت کے دوران اے ٹی ایم ڈیبٹ کارڈ کی ٹرانزیکشنز کے حجم اور مالیت میں بالترتیب 101 فیصد اور 110 فیصد ،ڈپازٹ اکانٹس فی اے ٹی ایم اور فی برانچ کی تعداد میں بالترتیب 62 فیصد اور 81 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اسی طرح 2016 سے 2019 کے دوران ای بینکاری ٹرانزیکشنز کے حجم اور مالیت میں بالترتیب 112 فیصد اور 152 فیصد کا اضافہ ہوا جس کا سبب ای بینکاری استعمال کنندگان میں 71 فیصد اضافہ تھا۔ علاوہ ازیں کریڈٹ کارڈ کی ٹرانزیکشنز 18 ملین سے بڑھ کر 39 ملین ہوگئیں جن سے 4 برسوں میں 118 فیصد کا اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔ اعلامیے کے مطابق 2016 سے 2019 تک کے عرصے میں تصفیے کی شرح ہر سال کے آخر میں 97 فیصد سے زیادہ رہی۔ شکایات کے تصفیے کا اوسط وقت ضوابط کے مطابق مقررہ وقت کی حدود کے اندر رہا تاہم اقرار ِوصولی ، عبوری جوابات اور حتمی جوابات بھیجنے میں تاخیر دیکھی گئی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ چونکہ شکایات دور کرنے کا پہلا فورم بینک ہیں اس لیے وہ شعبے کی مجموعی شکایات کے 97 فیصد یا زائد کو نمٹاتے رہے جبکہ 3 فیصد سے کم شکایات بلند تر سطحوں پر لائی گئیں جن میں اسٹیٹ بینک، بینکاری محتسب اور وزیر اعظم ڈلیوری یونٹ کا قائم کردہ پاکستان سٹیزن پورٹل شامل ہیں۔بینکوں میں تصفیہ شکایات کے عمل میں بہتر ی لانے اور مسابقت کے فروغ کے لیے اسٹیٹ بینک متعلقہ اکتشافات کو بہتر بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے جس میں مستقبل قریب میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے مختلف بینکوں کے شکایات نمٹانے سے متعلق کارکردگی کے اظہاریوں کی اشاعت شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…