کراچی(نیوزڈیسک) سندھ کے وزیر صحت نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے صوبے بھر میں شدید گرمی کی لہر سے ہلاک ہونے والےدو تہائی لوگ بے گھر تھے۔ہلاکت خیز گرمی کی لہر سے صرف کراچی میں 1200 سے زائد اموات ہوئیں۔دو کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں سرسبز علاقوں کی شدید کمی ہے۔ صاف پینے کے پانی اور سائبان تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے شہر کی سڑکوں پر زندگی گزارنے والے اس شدید گرمی کے سب سے بڑے متاثرین ثابت ہوئے ہیں۔صوبائی وزیر صحت جام مہتاب ڈھر نے ایک امریکی خبررساں ادارے کو بتایا ’ہیٹ سٹروک کے 65 سے 60 فیصد شکار افراد بھکاری ، ہیروئن کے عادی اور سڑکوں پر رہنے والے تھے‘۔جام مہتاب ڈھر نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والے باقی 40سے 35 فیصد تعداد گھریلو بوڑھی خواتین کی تھی جو حبس اور گرمی کی وجہ سے گھروں میں ہلاک ہو گئیں۔ڈھر کے خیال میں ان ہلاکتوں میں لوڈ شیڈنگ نے بھی اپنا کردار ادا کیا کیونکہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی پنکھوں اور اے سی تک رسائی ممکن نہ رہی۔محکمہ صحت کے ایک سینئر افسر ظفر اعجاز نے بتایا کہ پیر تک شہر کے ہسپتالوں میں اموات کی تعداد 1299 ریکارڈ کی گئی
گرمی سے ہلاک ہونے والوں کی اکثریت بے گھر تھی،وزیرصحت سندھ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)
-
ایران نے جنگ کا نیا مرحلہ شروع کردیا
-
ترک خواتین نے مسجد فاتح میں دوپٹے مردوں پر پھینک دیئے،ویڈیووائرل
-
امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی تھریٹ رپورٹ میں پاکستان، بھارت اور افغانستان کا خصوصی ذکر
-
عید الفطر کیلیے گیس کی فراہمی کا شیڈول جاری
-
خلیجی ممالک پر حملے، شہزادہ فیصل نے بڑا اعلان کر دیا
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل آسان ہوگئی
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کا نوٹیفکیشن جاری
-
امریکی ڈائریکٹر قومی انٹیلی جنس کا پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق بیان مسترد
-
حکومت نے بجلی کے بلوں میں اضافی فکسڈ چارجز شامل کر دیئے
-
راولپنڈی،شادی شدہ خاتون سے زیادتی کرنے والے 4 افراد گرفتار
-
گیس تنصیبات پر حملہ، قطر کا بڑا سفارتی فیصلہ
-
لاہور، شہری نے فائرنگ کرکے بیوی، بیٹی اور بیٹے کو ہلاک کرکے خودکشی کرلی



















































