بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

حکومت نے وبا کے دوران وزارت سائنس کے ذیلی اداروں کو فنڈز نہیں دیے، کورونا فنڈ کہاں گیا؟چیئرمین کمیٹی شدید برہم

datetime 15  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) سیکرٹری وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا ہے کہ حکومت نے وبا کے دوران وزارت ساِئنس کے ذیلی اداروں کو فنڈز نہیں دئیے جبکہ چیئر مین کمیٹی نے کہا ہے کہ کورونا کا فنڈ کہاں گیا؟ایک وفاقی وزیر کہتا ہے چیئرمین این ڈی ایم اے کو فون کیا تو انجکشن ملا۔سینیٹر مشتاق احمد کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس ہوا جس میں کورونا وبا کے دوران پیرا میڈیکل اسٹاف

سمیت دیگر شہدا کیلئے دعائے مغفرت کی گئی۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ پاکستان کو کورونا ور ٹڈی دل دونوں وباوں کا سامنا ہے، اگر ٹڈی دل تلف نہ ہوئے یہ خطہ غذائی قلت کا شکار ہو سکتاہے، چین نے کورونا پر قابو پاکر اس کو بطور تجارتی موقع میں تبدیل کیا۔کورونا وبا کے دوران وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے کردار پر سیکرٹری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ کورونا کے دوران پاکستان کونسل فار صنعتی ریسرچ نے اپنے سنیٹائزر تیار کیا،سینیٹائزرمیں پچاسی فیصد ایتھنول استعمال کر رہے ہیں،شوگر انڈسٹری ایتھنول باہر بیچ دیتی ہے جسکی مقامی پیداوار پر فرق پڑتا ہے،اس وقت یورپ اور امریکہ میں سنیٹائزر برآمد کر رہے ہیں، کورونا پر ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے اسپرے گنز ڈرونز بھی اور سینٹائز ابھی دفاعی ادارے بھی بنا رہے ہیں،این نائن فائیو ماسک فیس شیلڈ ٹمریچر گنز ویکسین پر کام جاری ہے،سینٹائزر اور وینٹی لیٹرز ہم بنا چکے ہیں۔ سیکرٹری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے کہاکہ حکومت نے وبا کے دوران وزارت ساِئنس کے ذیلی اداروں کو فنڈز نہیں دئیے۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ کورونا کا فنڈ کہاں گیا؟ایک وفاقی وزیر کہتا ہے چیئرمین این ڈی ایم اے کو فون کیا تو انجکشن ملا۔چیئر مین نے کہاکہ کورونا کے فنڈز کہاں گئے کیا این ڈی ایم اے ریسرچ ادارہ ہے۔سینیٹر ہدایت للہ نے کہاکہ آئندہ اجلاس میں این ڈی ایم اے کو اور وزارت خزانہ کو بلایا جائے۔ ارکان نے کہاکہ ویکسین پر

کام وزارت سائنس کے تحقیقی اداروں نے ہی کرنا ہے۔ارکان نے کہاکہ وزارت سائنس کے ذیلی اداروں کو نظر انداز کرنے سے حکومتی سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ وزارت سائنس کے اداروں کی اب تک خلا میں ہی ریسرچ ہے۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ جب کسی ریسرچ کا عوام کو فائدہ نہیں تو پھر کیا کہیں اسے،کم وسائل میں وزارت سائنس کے ذیلی اداروں نے کام کیا۔ ارکان کمیٹی کے مطابق ٹڈی دل کا کیمیکل چین سے برآمد کیا گیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…