پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

موبائل سگنلز کا مسئلہ ، کمپنیوں کی جانب سے ہائیکورٹ کو بڑی یقین دہانی کرادی

datetime 14  جولائی  2020 |

لاہور ( این این آئی)موبائل کمپنیزکی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کو موبائل سگنلز کے مسئلے کو رواں ماہ کے آخر تک حل کرنے کی یقین دہانی کر ادی گئی جبکہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے ہائیکورٹ کے احاطے میں موبائل ٹاور لگانے کی اجازت طلب کرنے پر کہا ہے کہ ہم ہائیکورٹ کی زمین بیچیں گے اورنہ لیز پر دیں گے ۔

موبائل کمپنی نے حل ڈھونڈنا ہے اور سگنل کا مسئلہ حل کرنا ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست پر سماعت کی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس محمد قاسم خان ین استفسار کیا وفاقی وزیر آئی ٹی اور چیئرمین پی ٹی اے عدالت میں موجود ہیں ۔جس پر چیف جسٹس محمد قاسم خان کو بتایا گیا کہ وفاقی وزیر کابینہ میٹنگ کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہو سکے جبکہ چیئرمین پی ٹی اے عدالت میں موجود ہیں ۔چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی وزیر کے جواب میں تضاد ہے، انہوں نے اپنے جواب میں لکھا ہے ان کے پاس اختیار نہیں کہ وہ موبائل سگنلز کے معاملے کو دیکھیں ۔دوسری جانب وفاقی وزیر نے ہی متعلقہ حکام کو معاملہ حل کرنے کے لیے خط بھی لکھا ہے ۔عدالت میں وفاقی وزیر کے نمائندے نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ غلطی نہیں ہوئی آپ نے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ،یہ تو توہین عدالت ہے ،وفاقی وزیر نے تو خود اپنے جواب پر دستخط کیے کیا انہوں نے دیکھا نہیں ۔چیف جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ وفاقی حکومت کے وکیل وزیر کے مبہم جواب بارے عدالت میں جواب جمع کرائیں ۔موبائل کمپنی کے وکیل نے کہا کہ وکلا ء نے اپنے دفاتر میں ایمپلی فائر لگا رکھے ہیں ۔

صدر لاہور ہائیکورٹ بار نے کہا کہ جب موبائل سگنل نہیں ہوں گے تو وکلا ء کے پاس کوئی اور آپشن نہیں ۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی وکیل ،وزیر یا سیکرٹری کوئی بھی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو قانون اپنا راستہ بنائے گا ،اگر کوئی غیر قانونی کام ہو رہا ہے تو ایف آئی اے کارروائی کرے ۔چیف جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ میرے اپنے چیمبر میں بھی انٹرنیٹ ٹھیک نہیں چل رہا ۔موبائل کمپنیز کے وکیل نے کہا کہ اگر وکلا ء ایمپلی فائر اتروا دیں تو سارا مسئلہ حل ہو جائے گا ۔چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں کے آن لائن امتحانات ہو رہے ہیں لیکن سگنلز کی وجہ سے بہت مسائل آ رہے ہیں ۔چیف جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ وفاقی وزیر کو بتا دیں کہ آئندہ عدالت میں غلط بیانی کی کوشش کی تو کارروائی ہو گی ۔موبائل کمپنیز کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ اس ماہ کے آخر تک موبائل سگنلز کا مسئلہ حل کر دیں گے جس کے بعد سماعت ملتوی کر دی گئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…