جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بھارت اور پاکستان کے زیرزمین آبی ذخائر،سائنسدانوں کی رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجادی

datetime 29  جون‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)دو نئے مطالعاتی جائزوں کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ انسان اپنی سرگرمیوں کے نتیجے میں اپنی اس دھرتی کے اندر موجود پانی کے ایک تہائی ذخائر کو تیز رفتاری کے ساتھ سطح زمین پر لا رہا ہے۔ زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ انسان کو یہ پتہ ہی نہیں کہ زمین کے اندر موجود ذخائر میں ابھی اور کتنا پانی باقی بچا ہے۔ یہ حقائق سائنسدانوں نے ان مطالعاتی جائزوں میں بتائے ہیں جنہیں واٹر ریسورسز ریسرچ نامی جریدے کے تحت انٹرنیٹ پر جاری کر دیا گیا ہے۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق ایشیا اور بحرالکاہل کا خطہ ایک اہم اقتصادی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے تاہم تشویشناک بات یہ ہے کہ اِس خطے کے کسی بھی ترقی پذیر ملک کے پاس پانی کی محفوظ فراہمی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اِروائن سے وابستہ پروفیسر اور ان جائزوں کی ترتیب کے حوالے سے مرکزی اہمیت کے حامل محقق جے فیمی گلیئیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے زیرِ زمین آبی ذخائر میں موجود پانی کی مقدار کو ماپنے کےلئے اس وقت دستیاب فزیکل اور کیمیکل آلات بالکل ناکافی ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ جتنی تیزی سے انسان دنیا کے زیرِ زمین آبی ذخائر کو استعمال میں لا رہا ہے، ان ذخائر میں موجود باقی ماندہ پانی کی مقدار کو جانچنے کےلئے ایک مربوط عالمگیر کوشش درکار ہے۔ سائنسدانوں نے سطحِ زمین کے نیچے موجود آبی ذخائر میں کمی کو ناسا کے خصوصی مصنوعی سیاروں کی مدد سے ماپا ہے۔ پہلے مطالعاتی جائزے کے لیے سائنسدانوں نے 2003اور 2013کے درمیان زمین کے پانی کے سینتیس سب سے بڑے زیرِ زمین ذخائر کا مشاہدہ کیا۔ان میں سے آٹھ ذخائر کے حوالے سے سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے کہ ان پر حد سے زیادہ دباو ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ان ذخائر میں موجود پانی تیزی سے باہر نکالا جا رہا ہے اور ایسا کوئی قدرتی طریقہ موجود نہیں ہے کہ یہ ذخائر دوبارہ پانی سے بھر جائیں۔ پانچ دیگر آبی ذخائر کو انتہائی زیادہ دباو کے شکار قرار دیا گیا۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے زیرِ زمین آبی ذخائر کی حالت اور زیادہ خراب ہو جائے گی۔سب سے زیادہ دباو کے شکار زیرِ زمین آبی ذخائر دنیا کے خشک ترین مقامات پر ہیں، جہاں ان ذخائر کے پھر سے بھر جانے کے لیے کوئی قدرتی ذریعہ موجود نہیں ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق عرب دنیا میں واقع زیرِ زمین پانی کا ذخیرہ (عریبین ایکوائفیر سسٹم)جو ساٹھ ملین سے زیادہ انسانوں کو پانی فراہم کرتا ہے، دنیا میں سب سے زیادہ دباو کا شکار آبی ذخیرہ ہے۔دوسرا آبی ذخیرہ جسے دنیا بھر میں سب سے زیادہ دباﺅ کا سامنا ہے، وہ ہے شمال مغربی بھارت اور پاکستان کا انڈس بیسن ایکوائفر۔ تیسرے نمبر پر مرزوک جادو بیسن ہے، جس سے شمالی افریقہ میں بسنے والے انسان استفادہ کرتے ہیں



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…