بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

ہمیں ایمل کا نہیں ’’ولی‘‘ کا خیال ہے،ہم نے چوہدری شجاعت فارمولہ کے تحت ’’مٹی پاؤ‘‘ والی پالیسی اپنائی،حافظ حسین احمد نے کسے ٹیسٹ ٹیوب باپ قرار دیدیا

datetime 8  جولائی  2020 |

کوئٹہ( آن لائن ) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان و سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخواہ کے صدر ایمل ولی خان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایمل کا نہیں ’’ولی‘‘ کا خیال ہے ان کے بڑے ہمارے لیے قابل احترام ہیں لیکن کاش چھوٹے بھی اس احترام کے رشتے کا پاس رکھتے، انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبہ خیبرپختونخواہ سمیت تمام تر تنظیموں اور زعماء کو اس حوالے سے لب کشائی سے منع کیا ہے

تاکہ آنے والے دنوں میں ہمارے یہ بھائی اور ان کے قائدین اپوزیشن میں اپنا 100فیصد کردار ادا کریں، انہوں نے کہا کہ ہم یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ صوبہ بلوچستان کی سطح پر اور مرکز میں ان کی پالیسی میں بھی ہم آہنگی نہیں بلوچستان میں انہوں نے ’’ٹیسٹ ٹیوب باپ‘‘ کو اپنایا توظاہر ہے کہ اس کے اثرات کہی نہ کہی سے ظاہر ہوتے رہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ میں اسفند یار ولی اور دیگر قائدین نے ہمیں عزت بخشی تشریف لائے اور ہمیں اب بھی توقع ہے کہ وہ اسی انداز بلکہ اس سے بڑھ کر جے یو آئی اور دیگر اپوزیشن کے ساتھ ہم آہنگی اور تعاون کا ثبوت دیں گے، حافظ حسین احمد نے مزید کہا کہ ایمل ولی خان کے بیان پر ہم نے چوہدری شجاعت فارمولہ کے تحت اس بیان کے حوالے سے ’’مٹی پاؤ‘‘ والی پالیسی اپنائی ہے اور ہم نے تمام تر پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہدایات جاری کیں ہے کہ اس مسئلے پر ’’مٹی پاؤ‘‘اور اپوزیشن کے مستقبل کے اتحاد اور یکجہتی کے حوالے سے اپنا رول ادا کریں ، انہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے اکابرین اور رہنما اس جذبے کو اہمیت دیں گے۔  سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخواہ کے صدر ایمل ولی خان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایمل کا نہیں ’’ولی‘‘ کا خیال ہے ان کے بڑے ہمارے لیے قابل احترام ہیں لیکن کاش چھوٹے بھی اس احترام کے رشتے کا پاس رکھتے، انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبہ خیبرپختونخواہ سمیت تمام تر تنظیموں اور زعماء کو اس حوالے سے لب کشائی سے منع کیا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں ہمارے یہ بھائی اور ان کے قائدین اپوزیشن میں اپنا 100فیصد کردار ادا کریں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…