جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

لسٹ میں سنگین غلطیاں، پالپا کا مشتبہ لائسنس والے پائلٹس کی حکومتی فہرست سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

datetime 8  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان ائیر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) کاحکومت کی طرف سے پیش کردہ 262 مشتبہ لائسنس کے حامل پائلٹس کی فہرست سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا۔پالپا کے مطابق حکومت نے اب تک 171 پائلٹس کے نام دیے ہیں، 91 پائلٹس کے نام ابھی تک نہیں دیے گئے۔خیال رہے کہ جعلی یا مشکوک لائسنس کے الزام کے تحت حکومت نے پاکستان ائیرلائنز (پی آئی اے) کے 141 پائلٹس سمیت 262 پائلٹس

کی لسٹ جاری کی تھی۔بعد میں ثابت ہوا کہ اس لسٹ میں کئی سنگین غلطیاں تھیں اور اب سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے گزشتہ روز جن 34 پائلٹوں کے لائسنس معطل کیے ہیں ان کے معاملے میں بھی کئی غلطیاں سامنے آ گئی ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنی تحقیقات کے بعد پی آئی اے کے 34 پائلٹوں کے لائسنس معطل کرنے اور ان کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔معطل پائلٹس پر لائسنس کے تحریری امتحان میں غلط ذرائع استعمال کرنے کا الزام ہے۔ سی اے اے کی اس لسٹ پر بھی کئی اعترضات سامنے آگئے ہیں۔لسٹ میں ایک ایسے پائلٹ کا نام بھی ہے جس کے پاس امریکا سے حاصل کردہ اے ٹی پی ایل لائسنس ہے اور اس نے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کوئی امتحان ہی نہیں دیا لیکن ان پر 8 میں سے دو تحریری پرچوں میں نقل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔لسٹ میں دو ایسے پائلٹس کا نام بھی ہے جو امتحان والے دن فلائٹ ڈیوٹی پر نہیں تھے بلکہ اسٹینڈ بائی تھے، ایوی ایشن ذرائع کے مطابق سی اے اے کا کوئی قانون اسٹینڈ بائی پائلٹ کو تحریری امتحان دینے سے نہیں روکتا۔معطل کیے گئے 34 میں سے اب تک 20 ایسے پائلٹوں کے نام سامنے آگئے ہیں جن پر نقل کا نہیں بلکہ ایک ہی دن پیپر دینے اور اسی دن فلائٹ ڈیوٹی کرنے کا الزام ہے۔ریکارڈ کے مطابق ان 20 پائلٹ نے فلائٹ ڈیوٹی سے واپسی پر تحریری امتحان دیا ، یا پھر امتحان دے کر فلائٹ پر چلے گئے۔ ایوی ایشن ذرائع کے مطابق سی اے اے کا کوئی قانون پیپر والے دن فلائٹ ڈیوٹی کرنے سے نہیں روکتا۔بات پاکستان کے 30 فیصد کمرشل پائلٹوں کے لائسنس جعلی ہونے سے شروع ہوئی اور 262 پائلٹوں کی لسٹ میں سے صرف 34 پائلٹوں کو ہی شوکاز نوٹس ہوسکے اور اب 34 پائلٹوں کی لسٹ میں بھی کئی غلطیاں سامنے آگئی ہیں۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…