بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں ہندوئوں کو زمین فروخت کرنا شرعاً حرام ہے ، دارالافتاء

datetime 6  جولائی  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان او آئی سی ، اقوام متحدہ بھارت کی سازشوں کا نوٹس لے پاکستان علماء کونسل اور دارالافتاء پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوئوں کی آباد کاری کی سازش کو سمجھتے ہوئے اپنی جائیدادیں اور زمینیں ہندوئوں کو فروخت نہ کریں۔ کشمیر شروع سے ایک مسلمان ریاست ہے جو کسی بھی حیثیت سے بھارت کا حصہ نہیں ہے ۔

اقوام متحدہ کی قراردادیں اور خود بھارتی آئین کی دفعات 370 اور 35 اے اس بات کو تسلیم کرتی ہیں۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور صدر دارالافتاء پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مفتی محمد عمر فاروق ، علامہ عبد الحق مجاہد،مولانا محمد شفیع قاسمی، مولانا اسعد زکریا قاسمی، مولانا نعمان حاشر ، مولانا محمد اشفاق پتافی ، مولانا ابو بکر صابری ، مولانا طاہر عقیل اعوان نے اپنے ایک فتویٰ میں کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم و جبر کر کے انہیں بد ترین کرفیواور لاک ڈائون کا نشانہ بنایا ہوا ہے اور بھارت کے آئین میں تبدیلی کر کے اسے بھارت کا حصہ بنانے کی سازش کر رہا ہے اور اب اس کی یہ کوششیں ہو رہی ہیں کہ کشمیر میں بھارتی ہندوئوں کو اُسی طرح لا کر آباد کیا جائے جس طرح صہیونی یہودیوں نے فلسطین کی زمینوں پر قبضہ کر کے مسلمانوں کو وہاں سے جلا وطن کیا اور اسرائیل کی ناجائز ریاست قائم کر لی۔ ان حالات میں کشمیر کے مسلمانوں کیلئے شرعی طور پر جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی زمینیں کسی ہندو کو فروخت کریں۔ ایساکرنے والے شرعی طور پر اور قومی طورپر مجرم اور غدار ہوں گے۔قرآن و سنت کے احکام اس بارے میں واضح ہیں ایسی کسی بھی چیز کو جس سے کفار مضبوط ہوں اور مسلمانوں کے خلاف اس کو استعمال کریں بیچنا گناہ اور حرام ہے۔ بھارتی حکومت ریاست کشمیر کی حیثیت ختم کرنے کے درپے ہے جو وہاں مسلمانوں کا

پیدائشی حق ہے اور عالمی طور پر مسلمہ ہےاورخود بھارت کا اصل دستور بھی اس کی گواہی دیتا ہے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی حیثیت ختم کرنے کیلئے ہندوئوں کو بسانے کا قانون پاس کر چکا ہے لہذا مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ بھارت کے اس ناپاک عمل کو ناکام بنا دیںاور ہر طرح سے اس کو روکیں اور شریعت اسلامیہ کے احکامات کی روشنی میں ہندوئوں کو مقبوضہ کشمیر کی زمین کی

فروخت حرام اور گناہ ہے جو اس طرح کرے گا وہ عند اللہ ، عند الناس گناہ کا مرتکب ہوگا۔حکومت پاکستان ، او آئی سی (OIC)، اقوام متحدہ سمیت تمام مسلمان ملکوں کا فرض ہے کہ وہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی ہر طرح سے مدد کریں اور بھارت کے ناپاک عزائم کو کامیاب نہ ہونے دیں اور اس طرح اسرائیل کو مقبوضہ فلسطین کی زمینوں پر آباد کاری سے روکنے کیلئے عملی کردار ادا کریں۔پاکستان علماء کونسل آئندہ ہفتہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کی صورتحال پر اسلام آباد میں مظلومین کشمیر و فلسطین کانفرنس منعقد کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…