منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

مخیر شخصیت کا جنرل ہسپتال کیلئے وینٹی لیٹر کے متبادل جدید طبی آلات کا عطیہ

datetime 5  جولائی  2020 |

لاہور(این این آئی)امریکہ میں مقیم پاکستانی مخیر شخصیت نے لاہور جنرل ہسپتال کو وینٹی لیٹر کے متبادل جدید طبی آلات کا عطیہ دیاہے جو کورونا وائرس میں مبتلا مریضوں کا نظام تنفس بحال رکھنے میںمفید ثابت ہو رہے ہیں۔ ہائی فلو آکسیجن نیزل کینولا کا عطیہ وصول کرتے وقت پرنسپل پی جی ایم آئی و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار الفرید ظفر نے کہا کہ اپنے مالی وسائل مخلوق خدا کی خدمت کے لئے خرچ کرنے والے

افرادنیا و آخرت میں سرخروہوں گے اور ہم سب بھی ان کے بہت شکر گزار ہیں۔ اس موقع پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمود صلاح الدین، پروفیسر خالد وحید، ڈاکٹر لیلیٰ شفیق و دیگر انتظامی ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔ امریکہ کی مخیر شخصیت ضیا ء الدین بٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی جی ایم آئی وایل جی ایچ کی کورونا ہیلپ لائن اور ٹیلی میڈیسن سروس بیرون ممالک رہائش پذیر پاکستانیوں کے لئے راہنمائی اور وائرس کے بارے میں ضروری معلومات فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوئی ہے جس کی وجہ سے دیار غیر میں مقیم پاکستانی اپنے گھر میں ہی احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات سے آگاہی حاصل کر رہے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر کی سربراہی میں کوڈ 19- کے دوران معا لجین نے بچاؤ کے لئے جس طرح اندرون و بیرون ممالک لوگوں کی راہنمائی کی ہے اس سے نہ صرف اس وباء میں مبتلا افرادکا حوصلہ بڑھا بلکہ قیمتی مشوروں کی بدولت انہوں نے بھی سکھ کا سانس بھی لیا ہے۔پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ دنیا بھر میں مقیم پاکستانی وطن عزیز کے سفیر ہیں زلزلہ، سیلاب یا کوئی اور ناگہانی آفت ہو تو ان افراد نے ہمیشہ اپنے ہم وطنوں کی بڑھ چڑھ کر خدمت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور ان کا دکھ در د بانٹنے کے لئے دل کھول کر عطیات دئیے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ خاندان نے لاہور جنرل ہسپتال کے ڈائلسسز سنٹر کی اپ گریڈیشن، جدید مشینوں کی فراہمی کے علاوہ یورالوجی اور گائنی وارڈ کی تزئین و آرائش کے لئے کروڑوں روپے خرچ کئے ہیں جس سے بہترین سہولتوں سے پاکستانی مریض مستفید ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے ملنے والے عطیات دکھی انسانیت کی خدمت پر اسی طرح خرچ کئے جائیں گے اور علاج معالجے کی سہولتوں کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…