اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ہم یہ چیز نہیں مانتے،حکومتی اقدام مسترد، صنعتکاروں اور برآمد کنندگان نے دو ٹوک جواب دیدیا

datetime 4  جولائی  2020 |

کراچی(این این آئی)صنعتکاروں ،برآمد کنندگان نے وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت پہلے ہی زوال پزیر ہے اور ان حالات میں ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لئے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جس سے منفی گروتھ مثبت ہو سکے۔رائس ایکسپورٹرز ایسوس ایشن آ ف پاکستان کے

سابق چیئرمین رفیق سلیمان نے بجلی کے نرخوں میں یکدم اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے تمام صنعتوں خصوصاً برآمدی سیکٹر کی پیداواری لاگت میں زبردست اضافہ ہو جائے گا۔ صنعتوں کے اخراجات میں بجلی کا شئیر بہت زیادہ ہے اور اس صورتحال میں جب کہ کرونا کی وجہ سے صنعتی شعبہ سست روی کا شکار ہے اس اضافے سے صنعتی ترقی کا پہیہ مزید تک جائے گا۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ رائس ایکسپورٹ کو صنعت کا درجہ دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو بیرونی ادائیگیوں کے لئے زرمبادلہ کی اشد ضرورت ہے مگر اس وقت ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں جس سے برآمدات سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ میں کمی کا امکان ہے ۔رفیق سلیمان نے کہاکہ اندرونی اور بیرونی مسائل کی وجہ سے ملکی برآمدات پہلے ہی کمی کا شکار ہیں اور رواں سال بیس ارب ڈالر سے بھی کم رہنے کا امکان ہے ۔ اس صورتحال میں ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے برآمدات میں اضافے کیا جا سکے مگر حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے برآمدات مزید متاثر ہونے کا امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر چاول کے حوالے سے بات کی جائے تو چاول کی ملوں میں بجلی کے اخراجات میں اچھا خاصا اضافہ ہو جائے گا۔چاول اس وقت وہ کموڈٹی ہے جس نے تمام تر مشکلات کے باوجود دو ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کر لیاہے۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت بین القوامی منڈی میں

پاکستان چاول کو بھارتی چاول سے سخت مسابقت کا سامنا ہے۔اچھے بیج ، سستی بجلی اور اچھی مارکیٹنگ کے باعث بھارتی چاول اور پاکستانی چاول کی قیمت میں تقریبا تیس سے پچاس ڈالر کو فرق ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی برآمدکنندگان نے دو ارب ڈالر برآمدات کا ہدف حاصل کر لیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ ایکسچینج ریٹ میں بہتری سے برآمدات کو سپورٹ ملی تھی مگر اس طرح کے اقدامات سے برآمدکنندگان شدید مشکلات کا شکار ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ برآمدکنندگان اور صنعتکار ایک طویل عرصے سے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ برآمدی صنعتوں کے لئے تمام یوٹیلٹی ٹیرف بشمول بجلی پانی اور گیس کو پانچ سال کے لئے منجمد کر دیا جائے تاکہ برآمدکنندگان غیر ملکی خریداروں سے یوٹیلٹی ٹیرف میں تبدیلی کے خطرے کے بغیر معاہدے کر سکیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کے نرخوں کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے اور حالیہ اضافے کو فی الفور واپس لیا جائے تاکہ ملک میں صنعتوں کا پہیہ چلتا رہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…