منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بالوں کی بیماریوں کاسب سے بڑا سبب کیا ہے؟ مختلف ملکوں کے ڈاکٹرز کی تحقیق کے نتائج سامنے آگئے

datetime 2  جولائی  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مختلف ملکوں کے ڈاکٹرز نے تحقیق میں کہا ہے کہ بال درحقیقت انسانی صحت کو جانچنے کا بیرو میٹر ہے اسی لیے بہت سی بیماریوں کا پتا لگانےکے لیے ان کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے اس لیے بالوں کی بیماریوں کو سنجیدگی سے لینا چاہئے کیونکہ اصل بیماری آپ کے جسم کے اندر موجود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بالوں کو صحت ہمارے خون سے فراہم ہوتی ہے اور جب خون میں میڈی کیشن، ہارمونز یا پھر نیوٹرینٹس کی کمی کے باعث تبدیلی واقع ہوتی ہے تو بالوں کا گرنا اور خشکی جیسے مرض پیدا ہوجاتے ہیں بالکل اسی طرح انسان کا دماغی طورپریشانی کا شکار ہونا بھی بالوں کے گرنے کا باعث بنتا ہے اور اگر اس پر قابو پا لیاجائے تو بال دوبارہ بڑھنا شروع ہوجائیں گے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جیسے ہی آپ اپنے بالوں میں کوئی غیر معمولی تبدیلی دیکھیں اور علاج کے بعد بھی بالوں کا گرنا، خشکی اور سوکھا پن دور نہ ہوتو فوری طور پر ٹرائی کولوجسٹ سے رابطہ کریں۔ تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ جو لوگ تھائی رائیڈ سے متعلق بیماریوں اور موسمی بخار کا شکار ہوجاتے ہیں ان کے بال تیزی سے گرنا شروع کردیتے ہیں اس لیے بالوں کے علاج سے پہلے ان بیماریوں کا علاج کریں تو بالوں کی بیماریاں خود بخود ختم ہوجائیں گی اس کے علاوہ کینسر، دل اور اینیمیا جیسی بیماریاں بھی بالوں کی کئی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔ غذا میں کمی جسم میں پروٹین کی کمی کو جنم دیتی ہے جو ماراسمس کی بیماری کا باعث ہوتا ہے اور اس سے بالوں میں خشکی اور سفیدی اترنا شروع ہو جاتی ہے جبکہ جسم میں زنک کی کمی بھی بالوں کے گرنے اور سفید کرنے میں کردار ادا کرتی ہے جب کہ تمام ٹرائی کولوجسٹ اس بات پر متفق ہیں کہ بالوں کے علاج سے قبل اپنے جسم میں موجود بیماریوں کا علاج ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…