منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ان 2 ماہ میں کورونا سے کروڑوں لوگوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے، عالمی ادارہ صحت کا خوفناک انکشاف

datetime 27  جون‬‮  2020 |

جنیوا(این این آئی) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ستمبر میں کورونا وائرس انفیکشن کی دوسری لہر آئی تو کروڑوں لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے ڈبلیو ایچ او کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رنیری گوریرا نے بتایا کہ عالمی وبا توقعات کے عین مطابق پھیل چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ستمبر اکتوبر میں جب درجہ حرارت کم ہوگا تو کورونا کی شدت بڑھ جائے گی۔

رنیری گوریرا نے سو سالہ پرانے ہسپانوی فلو کا کورونا کے ساتھ موازانہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہسپانوی فلو گرمی میں نیچے چلا گیا تھا اور ستمبر اکتوبر میں شدت سے اس کا دوبارہ آغاز ہوا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران پانچ کروڑ انسان زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔دوسری جانب ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ ادارے کو کورونا وبا سے لڑنے کیلئے پچاس کھرب کی ضرورت ہے۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے خلاف میڈیکل ٹیسٹوں، مریضوں کے علاج اور ویکسینز کے لیے اگلے ایک سال کے دوران مجموعی طور پر پچاس کھرب سے زائد کی ضرورت ہوگی۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق پچاس کھرب میں سے 21 کھرب روپے فوری طور پر درکار ہیں۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق اب تک مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کی طرف سے صرف چھ کھرب چھتیس ارب ہی جمع ہوسکے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی سربراہی میں طے کردہ مالی ہدف دور دور تک پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ عالمی ادارہ صحت نے ڈبلیو ایچ او کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رنیری گوریرا نے بتایا کہ عالمی وبا توقعات کے عین مطابق پھیل چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ستمبر اکتوبر میں جب درجہ حرارت کم ہوگا تو کورونا کی شدت بڑھ جائے گی۔رنیری گوریرا نے سو سالہ پرانے ہسپانوی فلو کا کورونا کے ساتھ موازانہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہسپانوی فلو گرمی میں نیچے چلا گیا تھا اور ستمبر اکتوبر میں شدت سے اس کا دوبارہ آغاز ہوا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…