جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

کورونا وائرس سے انتقال کرنیوالوں کو تابوت میں رکھ کر دفنانے کی شرط ختم، ورثاء اور عزیز و اقارب کیلئے بھی اہم اعلان

datetime 23  جون‬‮  2020 |

لاہور (این این آئی)کورونا سے جاں بحق افراد کے ورثا غسل، جنازے اور تدفین میں شامل ہو سکیں گے جبکہ میت کو تابوت میں رکھ کر دفنانے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تدفین کے طریقہ کار میں تبدیلی کے معاملے پر کیبنٹ کمیٹی کی منظوری سے سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیپٹن (ر)محمد عثمان نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی برائے انسداد کورونا نے نئے طریقہ کار کی منظوری دی جس کے بعد ٹیکنیکل ورکنگ ٹیم نے تمام ریسرچ کا جائزہ لینے کے بعد مکمل مشاورت کر کے تدفین کے طریقہ کار میں تبدیلی کی سفارش کی۔نوٹیفکیشن کے مطابق کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والی میت کو غسل دیا جا سکے گا۔ لوکل گورنمنٹ کی تربیت یافتہ ٹیمیں تمام حفاظتی انتظات کے ساتھ میت کو غسل دیں گی۔ مرد اور خواتین میت کو غسل دینے کے لیے متعلقہ جنس کی علیحدہ علیحدہ ٹیمیں ہوں گی۔ تاہم ورثا بھی مکمل حفاظتی لباس پہن کر غسل دینے میں شامل ہو سکیں گے۔اس کے علاوہ کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کے جنازہ میں ورثا، عزیز اور رشتہ دار شامل ہو سکیں گے۔ میت کی تدفین کے لیے تابوت کی لازمی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔ میت کا فاصلے سے آخری دیدار کرنے کی اجازت بھی ہو گی۔ تاہم میت کو بغیر حفاظتی لباس پہنے براہ راست چھونے کی اجازت نہیں ہوگی۔کیپٹن (ر)محمد عثمان کا کہنا تھا کہ ان ایس او پیز کی تیاری میں تمام مکتبہ فکر کے علمائے کرام نے انتہائی اہم کردار ادا کیا جس کے لیے ان کے شکر گزار ہیں۔ تدفین کے طریقہ میں تبدیلی ڈبلیو ایچ او، جدید ریسرچ اور اسلامی ممالک میں رائج طریقہ کار کے مطابق کی گئی ہے۔ کورونا سے جاں بحق افراد کے ورثا غسل، جنازے اور تدفین میں شامل ہو سکیں گے جبکہ میت کو تابوت میں رکھ کر دفنانے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…