بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

عطائی ڈاکٹرموت کے سوداگر بن گئے، غلط انجکشن لگنے سے بچی ایک ٹانگ سے محروم، زندگی اور موت میں کشمکش جاری، دل دہلا دینے والا واقعہ

datetime 10  جون‬‮  2020 |

مانسہرہ (این این آئی)عطائی ڈاکٹر کے ہاتھوں معصوم بچی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا،غلط انجکشن لگنے سے ایک ٹانگ سے محروم دوسری ٹانگ بھی کاٹنے کا خدشہ۔محمد ساجد ولد قاضی الرحمان سکنہ غازی کوٹ نے اپنی والدہ اور چار سالہ معصوم بچی مدیحہ کے ہمراہ مانسہرہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ

عطائی ڈاکٹر محمد رفیق سابقہ کمپیوڈر جس نے کہ کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال کے سامنے اپنی کلینک بنا رکھی ھے نے میری بچی چارسالہ مدیحہ جسے الٹی اور پیچش کی شکایت تھی اسے غلط انجکشن لگایا انجیکشن کا ری ایکشن ھوا جس کی وجہ سے میری بچی کی ایک ٹانگ کاٹنی پڑی اسی طرح ڈاکٹر نے کہا کہ اس کی دوسری ٹانگ بھی کاٹنی پڑے گئی ڈاکٹر نام سے معافی مانگی اور ہمیں کہا کہ اس بچی کا سارا علاج میں کروں گا اب وہ بچی کا علاج کرانے کے بجائے الٹا ہم سیبدمعاشی کر رہا ھے اور گالم گلوچ دیتا ھے۔اس نے مجھے مارا پیٹا بھی ھے ہم غریب لوگ ہیں میں اپنی فریاد لے کر ڈپٹی کمشنر مانسہرہ کے پاس گیا ہوں اور میں وزیراعظم پاکستان وزیراعلی کے پی کے وزیر صحت اور دیگر تمام ارباب اختیار سے مطالبہ کرتا ہوں مجھے اور میری بچی کو انصاف دلایا جائے اس جعلی اور عطائی ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور اسے نشان عبرت بنایا جائے تاکہ مدیحہ جیسی معصوم بچوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…