اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

کشمیری پنڈت بھی ڈومیسائل قانون پر حکومت کے مخالف ہوگئے ، مودی سر کار پر برس پڑے

datetime 6  جون‬‮  2020 |

جموں(این این آئی)مقبوضہ جموں و کشمیر میں نئے ڈومیسائل قانون پر کشمیری پنڈتوں نے حکومت پر تنقید کی ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر کے ڈومیسائل ّ(رہائشی)کی نئی تعریف واضح کی گئی ہے اور ملازمت کے لیے نئے ضابطے بھی مقرر کیے گئے ہیں۔

سائوتھ ایشین وائر کے مطابق کشمیری پنڈت سنجے صراف جو کہ لوک جن شکتی پارٹی کے چیف سپوکس پرسن بھی ہیں نے کہا کہ جو ڈومیسائل قانون حکومت نے جموں کشمیر میں نافذ کیا، اس سے جموں کشمیر میں یا جموں کشمیر سے باہر رہنے والے کشمیری پنڈتوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ہم جموں کشمیر کے حقیقی باشندے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے پنڈتوں کے دوسرے مسائل ہیں جن کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص کر کشمیری پنڈتوں کو اپنے گھر میں بسانے اور انہیں مواقع فرہم کرانا حکومت کی اول ذمہ داری ہے۔ جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام سے تعلق رکھنے والے ایک کشمیری پنڈت ریسی کلم نے ڈومیسائل قانون کو بد قسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نو قانون سے جموں کشمیر کے عوام کو مرکزی حکومت نے زخم دیئے ہیں اور ڈومیسائل قانون سے ان زخموں پر نمک چھڑکا گیا ہے کیونکہ جموں کشمیر میں پہلے سے ہی بیروزگاری عروج پر ہے اور اب بیرون ریاست کے لوگ ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کر کے اس علاقے کے نوجوانوں کا حق چھیننے کی کوشش کریں گے انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ اس قانون کو رول بیک کیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ جس طرح دہلی کے اشاروں پر جموں و کشمیر انتظامیہ نے اس قانون کو نافذ کرنے کا عمل شروع کیا ہے، یہ قابل مذمت ہے اور ایسے فیصلے صرف لوگوں کی منتخب شدہ حکومت کرتی ہے نا کہ افسران۔واضح رہے کہ جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری کے لیے نئے ڈومیسائل قانون کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔ اس نئے ڈومیسائل قانون کے تحت ملک بھر سے پولیس فورس میں ملازمت سمیت جموں و کشمیر میں مقامی سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست دینے کی اجازت دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…