پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس نے70 سال بعد پاکستان کی معاشی شرح نمو کوحیرت انگیز صورتحال سے دوچار کر دیا

datetime 18  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)کورونا وائرس نے ستر سال بعد پاکستان کی معاشی شرح نمو کو منفی کر دیا، رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ ریٹ صفر اعشاریہ تین آٹھ فیصد رہے گا ،رواں مالی سال زراعت کی شرح نمو دو اعشاریہ چھ نو فیصد صنعتی شعبے کی منفی دو اعشاریہ چھ چار فیصد جبکہ خدمات کی صفر اعشاریہ پانچ نو فیصد ریکارڈ کی گئی۔ پیر کو رواں مالی سال کی معاشی کارکردگی کا تعین کرنے کیلئے نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس سیکرٹری منصوبہ بندی ظفر حسن کی زیر صدارت ہوا ۔

اجلاس میں رواں مالی سال کے پہلے چھ سے نو ماہ کے جی ڈی پی اور گراس فکسڈ کیپٹل فارمیشن کے عبوری اعدادوشمار پر غور کیا گیا ۔اجلاس میں رواں مالی سال کی شرح نمو منفی 0.38 فیصد ریکارڈ کی گئی زراعت کی شرح نمو 2.67 فیصد صنعتی شعبے کی 2.64- فیصد اور خدمات کے شعبے کی 0.59 فیصد ریکارڈ کی گئی ،رواں مالی سال ملک کا جی ڈی پی 41 ہزار 727 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا ۔ جاری اعلامیہ کے مطابق رواں مالی سال قومی آمدن میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 9.9 فیصد کا اضافہ ہوا گزشتہ مالی سال ملک کے جی ڈی پی 37 ہزار 972 ارب روپے تھا رواں مالی سال فی کس آمدن میں 8.3 فیصد اضافہ کا تعین کیا گیا ہے گزشتہ مالی سال فی کس آمدن 198028 روپے تھی جو اس سال بڑھ کر 214539 روپے ہوگئی ، زراعت کے شعبے میں بڑی فصلوں کی پیداوار 2.90 فیصد بڑھی گندم کی پیداوار 2.45 فیصد چاول کی 2.89 فیصد اور مکئی کی پیداوار میں 6 فیصد اضافہ ہوا رواں مالی سال کپاس کی پیداوار میں 6.92 فیصد اور گنے کی پیداوار میں 0.44 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی لائیوسٹاک میں 2.58 فیصد اور جنگلات میں 2.29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ،صنعتی شعبے کی پیداوار کورونا وباء کے لاک ڈاؤن باعث شرح نمو منفی ہو گئی رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں منفی 7.78 فیصد کانکنی کے شعبے میں منفی 8.82 فیصد کی کمی ہوئی ٹیکسٹائل کے شعبے کی پیداوار میں منفی2.57 فیصد کھانے پینے کی اشیاء میں منفی 2.33 فیصد ریکارڈ کی گئی

پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں منفی 17.46 فیصد اور ادویات میں منفی 5.38 فیصد گاڑیوں میں منفی ساڑھے 36 فیصد ریکارڈ کی گئی ،آئرن اور اسٹیل کی پیداوار میں منفی 7.96 فیصد الیکٹرونکس منفی 13.54 فیصد انجینئرنگ مصنوعات میں منفی 7 فیصد جبکہ لکڑی کی مصنوعات میں منفی 22 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی صنعتی شعبے میں کھاد کی پیداوار میں 5.81 فیصد چمڑے کی مصنوعات میں 5 فیصد بجلی اور گیس میں 17.70 فیصد اضافہ ہوا ،تعمیراتی شعبے میں حکومتی اخراجات کے باعث 8 فیصد کی شرح نمو ریکارڈ کی گئی ،خدمات کے شعبے میں ہول سیل اور ریٹیل کے شعبے میں 3.42 فیصد ٹرانسپورٹ میں 7.13 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہاؤسنگ سیکٹر میں 4 فیصد حکومتی خدمات میں 3.92 فیصد اور دیگر نجی خدمات میں 5.4 فیصد کا اضافہ ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…