اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

بیوی پر بدچلنی کا شک، شوہرنے قرنطینہ سینٹر سے فرار ہو کر بیوی کا ہاتھ کا ٹ دیا، انتہائی افسوسناک واقعہ

datetime 16  مئی‬‮  2020 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں قرنطینہ سینٹر میں رہنے والے ایک شخص نے بیوی کے بدچلن ہونے کے شک پر سینٹر سے بھاگ کر اپنی بیوی کا ہاتھ کاٹ دیا۔کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے بھارت میں مارچ سے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے دوران شادی شدہ خواتین کے ساتھ تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے اورحکومت ایسی خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے سرکاری قرنطینہ سینٹر میں موجود ایک شخص کو جب شک گزرا کہ ان کی بیوی کا کسی کے ساتھ افیئر چل رہا ہے تو وہ قرنطینہ سینٹر سے فرار ہوگیا۔چھتیس گڑھ کے شہر رائے پور کے قرنطینہ سینٹر سے 26 سالہ نوجوان للت کوروا فرار ہوکر گھر پہنچے تو انہوں نے بیوی کو کسی دوسرے شخص کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے دیکھا تو وہ طیش میں آگئے اور انہوں نے بیوی کا ہاتھ ہی کاٹ دیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ واقعے کے بعد اہل محلہ نے خاتون کو ہسپتال پہنچایا مگر ان کے ہاتھ کو جوڑا نہ جا سکا اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان کے شوہر کو گرفتار کرلیا۔گرفتار شوہر نے پولیس کو بتایا کہ وہ جب سے قرنطینہ سینٹر گئے تھے تب سے ان کی بیوی کا فون ہمیشہ مصروف رہتا تھا جس پر انہیں اپنی بیوی کے کردار میں شک ہوا۔ملزم کے مطابق بیوی کے کردار پر شک ہونے کے بعد ہی وہ قرنطینہ سینٹر سے فرار ہوئے اور جب وہ گھر پہنچے تو اپنی بیوی پیار بائی کو کسی دوسرے شخص کے ساتھ فون پر باتیں کرتے ہوئے دیکھا تو وہ غصے میں آگئے او انہوں نے ان کا وہی ہاٹھ کاٹ دیا جس میں انہوں نے فون کو پکڑا تھا۔پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے مزید کارروائی شروع کردی جبکہ خاتون کے ہاتھ کو جوڑا نہ جا سکا، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…