پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پی آئی اے کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری ، ایک سال میں کتنے بلین روپے قرضوں کی ادائیگی بھی کر دی ؟ تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 13  مئی‬‮  2020 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے گزشتہ سال قرضوں کی مد میں 19بلین کی ادائیگی نے سب کو حیران کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق ، حکومتی بیل آؤٹ پیکیجز اور کمرشل قرضوں کے سہارے اڑان بھرنے والی قومی ایئرلائنز نے اس بار تو حیرت انگیز کام کردیا۔ گزشتہ سال حیران کن طور پر اپنے قرضوں میں سے 19 بلین روپے ادا کردیئے۔اسٹیٹ بینک نے اعداد وشمار جاری کردیئے

۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مارچ 2020 کے اختتام پر پی آئی اے کا مقامی (ڈومیسٹک ) قرض19.2 بلین روپے کی کمی سے 137.7 بلین روپے ہوگیا۔ مارچ 2019 میں مقامی قرضوں کا حجم 156.9 بلین روپے تھا۔پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے نجی ٹی وی چینل ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے قرض اور لائبلیٹیز کی مد میں ماہانہ 5 بلین روپے ادا کرتی ہے (لائبلیٹیز جون 2019 کے اختتام پر 400 بلین روپے تھیں۔) تاہم قرضوں کی ادائیگی سے نمایاں فرق نہیں پڑرہا اس کی وجہ یہ ہے کہ قومی ایئرلائن قرض کو ری اسٹرکچر اور رول اوور کرالیتی ہے اور بعض اوقات پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے بینکوں سے نئے قرض بھی لیے جاتے ہیں۔ بہرحال پچھلے کئی سال سے خسارے میں چلنے کے باوجود قومی فضائی کمپنی اپنے ذمے واجب الادا قرضوں کا حجم کم کرنے میں کامیاب ضرور ہوئی ہے۔ تاہم قرضوں کی ادائیگی سے نمایاں فرق نہیں پڑرہا اس کی وجہ یہ ہے کہ قومی ایئرلائن قرض کو ری اسٹرکچر اور رول اوور کرالیتی ہے اور بعض اوقات پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے بینکوں سے نئے قرض بھی لیے جاتے ہیں۔ بہرحال پچھلے کئی سال سے خسارے میں چلنے کے باوجود قومی فضائی کمپنی اپنے ذمے واجب الادا قرضوں کا حجم کم کرنے میں کامیاب ضرور ہوئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…