جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

مزید جانور، نایاب پھول اور پودے ناپید ہونے کو

datetime 24  جون‬‮  2015 |

طاقت کی علامت شیر، غاری کیکڑے اور دنیا کے نایاب سمندری شیر ان قریب تیئیس ہزار جانوروں میں شامل ہیں جو ناپید ہونے کے خطرات سے دوچار ہیں۔مغربی افریقہ کے شیروں سے لے کر ایشیائی رنگ برنگے پھول ’ثعلبیان‘ تک مختلف النوع کے جانور، پھول اور پودے تیزی سے ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ دنیا کی مختلف حکومتوں کے ان جانوروں اور پودوں کو تحفظ فراہم کرنے کے وعدوں کے باوجود رواں سال ان کی تعداد میں تشویشناک حد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر ( آئی یو سی این) کی جانب سے مرتب کی جانے والی ایک رپورٹ میں، جسے حکومتوں، سائنسدانوں اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے کارکنوں کی حمایت حاصل ہے، ناپید ہونے کے خطرات سے دو چار جانوروں اور پودوں کی ایک فہرست شامل ہے۔ 2015 ء کی اس فہرست میں ایسے جانوروں اور پودوں کی تعداد بائیس ہزار سات سو چوراسی ہے جبکہ 2014 ءمیں یہ تعداد بائیس ہزار چار سو تیرہ تھی۔ جانوروں کے ناپید ہونے کی بنیادی وجہ دنیا بھر میں جنگلات کو ختم کر کے
13
ان پر فارم، شہروں اور سڑکوں کی تعمیر کے رجحان میں اضافہ بتایا گیا ہے۔جنوبی افریقہ کے جانوروں اور پودوں کے تحفظ کے محکمے نے ایسے اقدامات کیے ہیں، جن کی وجہ سے شیروں کی مختلف اقسام سب سے زیادہ محفوظ ہیں اور انہیں ناپید ہونے کے سب سے کم خطرات لاحق ہیں۔ جبکہ مغربی افریقہ میں شیروں کی سب سے زیادہ شامت آئی ہے۔ وہاں ان کا شمار ناپید ہونے کے سب سے زیادہ خدشات سے دو چار جانوروں میں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ انسانوں کی طرف سے جانوروں، خاص طور سے شیروں کے شکار کا بہت زیادہ رجحان بتایا جاتا ہے۔2011 ء میں قریب دو سو حکومتوں نے 2020ءتک کے لیے یہ ہدف طے کیا تھا کہ جانوروں اور پودوں کی ناپید ہونے والی اقسام کو زیادہ سے زیادہ بچانے کی کوشش کی جائے گی۔ 2015ء میں ان کی کوئی مقبول قسم معدوم نہیں ہوئی تاہم اکثر ناپید ہونے کے قریب رہیں۔2020ء تک کے لیے مقرر کردہ ان اہداف کے بارے میں ایک بیان دیتے ہوئے انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے ایک ریڈ لسٹ یونٹ کے سربراہ کریگ ہلٹن ٹیلر کا کہنا تھا،” ہم اس سلسلے میں ٹریک پر نہیں ہیں“14

۔تازین و زیبائش کے لیے استعمال کیا جانے والا نایاب پھول ثعلبیان .اس سب کے باوجود انواع و اقسام کے جانوروں اور پودوں کے ناپید ہونے کے عمل کی روک تھام میں 2015 ء میں کسی حد تک کامیابی دیکھنے میں آئی۔ مثلاً ایبیریائی جنگلی بلوں کی تعداد ایک دہائی پہلے کے مقابلے میں بڑھ کر 156 ہو گئی ہے۔ جبکہ کریگ ہلٹن ٹیلر کے مطابق چند اقتصادی طور پر نہایت اہم اقسام کے جانور اور پودے ناپید ہونے کے خطرات سے دوچار اقسام کے زمرے میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان میں ایشیا کے ٹروپیکل یا منطقہ حارہ کے پھول اور ثعلبیان کی تمام 84 اقسام بھی شامل ہیں۔ یہ پھول نہایت مہنگے داموں بکتے ہیں کیونکہ یہ بہت ہی خوبصورت ہوتے ہیں اور انہیں تازین و زیبائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…