اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس کا پراسرار پہلو متعدد اموات کا باعث بننے لگا،مہلک وائرس جسم میں کس طرح تباہی مچانے لگا ، نئی تفصیلات سامنے آگئیں طبی ماہرین کی تحقیق میں ہوشربا انکشافات سامنے آگئے

datetime 24  اپریل‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی ڈاکٹر رچرڈ لیوی ٹن کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے مریضوں میں نمونیہ کا ابتدا میں پتہ نہ چلنے سے اموات زیادہ ہو رہی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی ڈاکٹر رچرڈ لیوی ٹن کی جانب سے وینٹی لیٹر پر بیشتر کورونا مریضوں کے

انتقال کر جانے پر تحقیق کے نتیجے میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے مریضوں میں کورونا کی تشخیص کے بعد ابتدائی مراحل میں نمونیہ کا پتہ نہ چلے کی وجہ سے زیادہ اموات ہو رہی ہیں۔ڈاکٹر رچرڈلیوی ٹن کا کہنا تھا کہ کووڈ نمونیہ کی فوری تشخیص مریض کو وینٹی لیٹر یا موت سے بچا سکتی ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ کوروناسے نمونیہ میں آکسیجن کمی کے باوجود شروع میں سانس میں دشواری کا احساس نہیں ہوتا، آکسیجن کی کمی پوری کرنے کے لیے سانس کھینچنے سے ہوا دانی کونقصان پہنچتا ہے، ہوا دانی اور پھیپھڑوں کو مسلسل نقصان سے مریض خطرناک مرحلے میں پہنچ جاتا ہے۔ڈاکٹررچرڈلیوی ٹن نے کہا کہ اس خاموش نمونیہ کا کورونا ٹیسٹ کے بغیر طبی آلے سے پتا چلایا جاسکتا ہے، پلس آکزی میٹر انگلی کی پور پر لگا کر آکیسجن کی مقدار اور دھڑکن کاپتہ چلایا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر رچرڈ لیوی ٹن کا کہنا تھا کہ بظاہر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو بھی ابتدا میں آکسیجن کی کمی کا پتا لگانا کارگر ثابت ہوا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…