اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

’’عوام اور حکومت لاک ڈاؤن پر مزاق بند کر کے حالات کو سنجیدہ لے ‘‘ ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئی ، یہ نہ ہو لوگوں کا علاج سڑکوں پر نہ کرنا پڑے ، طبی ماہرین نے بھی ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے عوام کو دوٹوک پیغام جاری

datetime 22  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کرونا وائرس پاکستان میں اپنے پنجے گاڑھتا جارہا ہے ۔ متاثرین کی تعداد 10ہزار سے تجاوز ہو گئی جبکہ ہلاکتیں بھی 200سے اوپر چلی گئیں ۔ حکومت کی جانب سے کیے گئے لاک ڈائون میں نرمی کو عوام نے کھل کر انجوائے کرنا شروع کر دیا ہے ۔ جس سے مریضوں کی تعداد ڈبل ہونا شروع ہو گئی ہے جو مریض ایک دن میں 200نہیں آتے تھے وہ 4سو سے کر 700تک روزانہ کی

بنیاد پر آنا شروع ہو گئے ہیں ، موجودہ صورتحال کو دیکھ کر ڈاکٹر بھی ڈر گئے ہیں انہوں نے عوام کو انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈائون کی پابندی کریں ، بلا وجہ باہر نہ نکلیں اور کوشش کریں گھر پر رہیں ، تاکہ کرونا وائرس کو روک جا سکے ۔ عوام لاک ڈائون کو سیریس لے مذاق چھوڑ دے ۔ تفصیلات کے مطابق سینئر ڈاکٹرز کی ٹیم نے کراچی پریس کانفرنس کرتے ہوئے عوام کو ملکی موجود صورتحال سے خبردار کرکیا ہے اور کہا کہ عوام حکومتی لاک ڈائون کو مذاق نہ لے اور سیر یس ہو جائے ورنہ نتائج انتہائی بھیانک ہو سکتے ہیں ۔ ڈاکٹر قیصر سجاد نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ عوام کی بڑی تعدادکرونا وائرس کو مذاق سمجھ بیٹھی ہے ۔ دکانیں کھلی ہیں کوئی توجہ نہیں دی جارہی ، حکمرانوں اور عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمارا صحت کا شعبہ بہت کمزور ہے اور اتنے ہسپتال نہیں ہیں ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ جتنی دکانیں کھلی ہیں سب بندکروائی جائیں ۔وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں سے درخواست ہے کہ لاک ڈائون میں نرمی ختم کی جائے اور عوام سختی سے انتباہ کیا جائے ورنہ صورتحال خطرے کی طرف جا سکتی ہے اگر ملک میں مریضوں کی تعداد زیادہ ہوئی تو ہمارے پاس اتنے ہسپتال نہیں ، آئندہ دو تین ہفتوں میں وائرس میں شدت آسکتی ہے ۔ مہلک وائرس سے بچائوکیلئے ابھی تک دنیا میں کسی کے پاس کوئی ویکسین یا دوا موجود نہیں ہے ، ہمارے پاس احتیاط ہی سب سے بہترین علاج ہے ورنہ ایسا نہ ہوا کہ مریضوں کا علاج سڑکوں پر کرنا پڑ جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…