پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

یہ رپورٹ صحیح ہے تو مافیاز نے ملک کا ریپ نہیں بلکہ گینگ ریپ کیا ہے، معروف صحافی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر مملکت عارف علوی کا دعویٰ

datetime 22  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ انہوں نے پاور سیکٹر میں ہونے والی تحقیقات کی رپورٹ پڑھی ہے جسے پڑھ کر وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مافیاز نے ملک کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ اجتماعی زیادتی کی ہے۔نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویومیں صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ

وہ پاورکمپنیوں کے اضافی منافع سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ پڑھ کر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ قوم کا ریپ نہیں،گینگ ریپ ہوا ہے۔صدر عارف علوی نے بتایا کہ تحقیقاتی رپورٹ کی سمری پڑھی ہے، یہ رپورٹ فی الحال یک طرفہ ہے، اس میں اسٹیک ہولڈرز کی رائے آنی باقی ہے، وزیراعظم سے ملاقات میں رپورٹ پر بھی بات ہوئی، میں نے وزیراعظم کوکہا کہ اگریہ رپورٹ صحیح ہے تو مافیاز نے ملک کا ریپ نہیں بلکہ گینگ ریپ کیا ہے۔صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ علماء کیساتھ طے پانے والے 20 نکاتی فارمولے پر سب کا اجماع ہے اور اس کی خلاف ورزی گناہ کے زمرے میں آئے گی۔انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کا آن لائن اجلاس فی الحال نہیں بلایا جاسکتا تاہم سماجی فاصلے کے ساتھ پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔صدر عارف علوی نے کہا کہ اب یہ ذمہ داری صرف آئمہ یا حکومت کی نہیں بلکہ ہر فرد کی ہے کہ وہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل کرے۔صدر مملکت نے کہاکہ اگر رمضان کے دوران حکومت یہ محسوس کرے کہ ان تدابیر پر عمل نہیں ہو رہا یا متاثرین کی تعداد برھ گئی ہے تو حکومت دوسرے شعبوں کی طرح مساجد اور امام بارگاہوں کے بارے میں فیصلوں پر نظر ثانی کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا بھی حکومت کو اختیار ہے کہ شدید متاثرہ علاقوں میں وہاں کے احکامات اور پالیسی کو بدل دیا جائے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…