بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

تبلیغی جماعت کے مزید4افراد میں کورونا وائر س کی تصدیق ، لیبارٹری ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد 2علاقے مکمل سیل

datetime 4  اپریل‬‮  2020 |

لکی مروت(آن لائن)ضلع لکی مروت میں کورونا وائرس میں مبتلا چارمریضوں کی تصدیق ہوگئی ،چاروں افراد کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے ان کے لیبارٹری ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ممہ خیل اور لنڈ احمد خیل کو لاک ڈائون کردیا گیا۔ محکمہ صحت لکی مروت کے پبلک ہیلتھ کو آرڈی نیٹر ڈاکٹر ہدایت اللہ خان نے بتایا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں میں ناصر خان سکنہ لورالائی(بلوچستان)، عبدالسلیم سکنہ لورا لائی(بلوچستان)، محمد خان سکنہ میانوالی(پنجاب) اور عصمت اللہ سکنہ وانڈہ کلن (لکی مروت) شامل ہیں۔

متاثرہ افراد کے ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال تاجہ زئی کے آئیسولیشن وارڈ میں منتقل کردیا گیا جبکہ تبلیغی جماعت کے دیگر15 افراد کو لکی مروت یونیورسٹی کے ٹائون کیمپس میں قرنطینہ کردیا گیا۔ ڈاکٹر ہدایت اللہ خان نے بتایا کہ متاثرہ مریضوں کی حالت بہتر ہے اور ان کی ہر طرح سے نگہداشت کی جارہی ہے۔ متاثرہ مریضوں میںناصر خان ولد بڑا خان سکنہ بی آر سی کالونی تحصیل و ضلع لورالائی کی عمر52سال ہے، وہ22مارچ کو رائیونڈ لاہور سے تبلیغی جماعت کے ساتھ ضلع لکی مروت آئے اور ممہ خیل گائوں کی مسجد میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔ دوسرے متاثرہ مریض عبدالسلیم ولد نور محمد(عمر 52سال) کا تعلق بھی گائوں کنوبی تحصیل و ضلع لورالائی سے ہے اور وہ بھی22مارچ کو رائیونڈ لاہور سے تبلیغی جماعت کے ساتھ آکر ممہ خیل کی مسجد میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔تیسرے متاثرہ مریض محمد خان ولد نور خان سکنہ گائوں چکارہ خاص تحصیل و ضلع میانوالی27مارچ کو تبلیغی جماعت کے ساتھ لکی مروت تشریف لائے تھے اور لنڈا حمد خیل گائوں کی مسجد میں ٹھہرے ہوئے تھے، ان کی عمر 58سال ہے ۔ چوتھے متاثرہ مریض عصمت اللہ ولد غلام حبیب سکنہ وانڈہ کلن تحصیل و ضلع لکی مروت تبلیغی جماعت کے ساتھ چلے پر گھوٹکی(سندھ) گئے تھے ،ان کی عمر55سال ہے اوروہ2اپریل کو گائوں واپس آئے تھے۔ چار کیسز کی تصدیق کے بعد ضلعی انتظامیہ نے لنڈاحمد خیل اور ممہ خیل کو مکمل لاک ڈائون کردیا جبکہ مساجد اور علاقے میں جراثیم کش محلول کی سپرے شروع کردی گئی ۔لائوڈ سپیکرز کے ذریعے اعلانات کرکے لوگوں کو تاکید کی گئی کہ وہ گھروں پر رہیں اور باہر نہ نکلیں۔ ڈپٹی کمشنر عبدالحسیب نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ دونوں متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو گھروں کی دہلیز پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے انتظامات کر لئے ہیں لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنا خیال رکھیں، گھروں تک محدود ہوں اور انتہائی اشد ضرورت میں گھر سے باہر نکلیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…