پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ملک میں وباء سے نقصان کم ر دعمل زیادہ ہے ،صنعتیں بند کرنا آسان چلانا مشکل ہوتا ہے، تاجر حضرات نے حکومت کے سامنے مطالبات رکھ دیے

datetime 3  اپریل‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) ایف پی سی سی آئی بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین ،پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس نے وہ تباہ کاری نہیں مچائی جو دیگر ممالک میں ہوئی ہے۔ پاکستان میں وبا ء سے نقصان کم مگرردعمل زیادہ ہے ۔صنعتیں بند کرنا آسان اور چلانا مشکل ہوتا ہے۔

صنعتی شعبے کو بتدریج فعال کرنے کے لئے کاروباری برادری کی مشاورت سے پلان بنایا جائے۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ ملکی معیشت میں جان ڈالنے اورمہنگائی کم کرنے کے لئے بینک ٹرانزیکشنز پر ودہولڈنگ ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے جبکہ شناختی کارڈ کی شرط کو ایک سال کے لئے موخر کیا جائے۔ کاروباری برادری نے بینک ٹرانزیکشنز پر ٹیکس کو قبول نہیں کیا ، اس سے معیشت کو بہت نقصان پہنچا ہے جبکہ کاروباری برادری نے اس ٹیکس سے بچنے کے لئے متبادل طریقے اختیار کر لئے ہیں جو حکومت کو معلوم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شناختی کارڈ کی شرط اور غیر رجسٹرڈ شدہ افراد سے3 فیصد ایڈیشنل سیلز ٹیکس جیسی شرائط سے فائدے کے بجائے نقصان ہو رہا ہے۔ صنعتی شعبہ اور درآمدکنندگان پہلے ہی 17 فیصد سیلز ٹیکس ادا کر رہے ہیں اس لئے شناختی کارڈ کی شرط اور ایڈیشنل ٹیکس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ودہولڈنگ ٹیکس اور شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنے سے عوام اور کاروباری برادری کو ریلیف ملے گا اور انکا اعتماد بڑھے گا جبکہ بہت سے کاروبار دیوالیہ اور ملازم بے روزگار ہونے سے بچ جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک نے سیلز ٹیکس، ویلیو ایڈڈ ٹیکس،سروسز ٹیکس، کارپوریٹ ٹیکس، پرسنل ٹیکس اور امپورٹ ڈیوٹی بہت کم یا ختم کر دی ہے ، جرمانے معاف یا انتہائی کم کر دئیے ہیں، لیبر سبسڈی کا انتظام کیا گیا ہے جبکہ ریفنڈز کی ادائیگی کے نظام کو

مزید سہل اور تیز کر دیا ہے۔میاںزاہد حسین نے کہا کہ امپورٹرکے پورٹ چارجز اور ڈیٹنشن چارجزمکمل طور پر معاف کئے جائیں اور اگر پاکستان میں بھی ایسے اقدامات کئے جائیں تو صورتحال بہت بہتر ہو جائے گی۔ترقی یافتہ ممالک کی معیشت موجودہ حالات میں پیکیج کے بغیر نہیں چل سکتی تو پاکستان کی کمزور معیشت کیسے چلے گی۔انھوں نے کہا کہ ٹیکس آڈٹ اور نوٹس وغیرہ کا سلسلہ روکا جائے اور ملازمین کی تنخواہوں میں سے سوشل سیکیورٹی اور ٹیکس وغیرہ کی کٹوتی ختم کی جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…