اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

’’ وزیراعظم کو چاہیے یہ ملک کو کم از کم ہیلتھ سروسز میں تو سپر پاور بنا دیں‘‘ ہم اگر جے ایف 17 تھنڈر اور الخالد ٹینک بنا سکتے ہیں تو ہم وینٹی لیٹرز کیوں نہیں بنا سکتے؟ کیوبا کے صدر فیڈل کاسترونے دس سال میں اپنے ملک اور قوم کی تقدیر کیسے بدلی جوڈاکٹرز بھاگ کر امریکا چلے جاتے تھے انہیں کیسے واپس لایاگیا؟ جاویدچودھری کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 3  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’ اوئے مختاریا ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔ہم اگر کرونا کو ایک ”نیشنل اپارچیونٹی“ سمجھ لیں تو آپ یقین کریں یہ بحران ہمیں قوم بنانے کے لیے کافی ہو گا‘ یہ ہمارے تمام سسٹم اپ گریڈ کر دے گا مثلاً ہمارے پاس سنہری موقع ہے ہم پاکستان کے تمام شہریوں کو ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے ساتھ جوڑ دیں‘ ملک کا جو بھی شہری ڈاکٹر یا کیمسٹ کے پاس جائے

یہ ایک کلک کے ساتھ اس کی میڈیکل ہسٹری بناتے چلے جائیں یوں پورے ملک کا میڈیکل ڈیٹا نادرا کے پاس آ جائے گا اور ملک میں جب بھی مستقبل میں کوئی وبا‘ کوئی آفت آئے گی تو ریاست کو پتا ہو گا یہ وبا کس شہر کے کس مریض کو متاثر کر سکتی ہے اور یوں ریاست اسے بروقت مطلع کر دے گی۔پاکستان آج سے ہر قسم کی ادویات اور میڈیکل آلات بنانا شروع کر دے‘ وینٹی لیٹر بہت مہنگا ہوتا ہے‘ پوری دنیا میں سال میں صرف 63 ہزار وینٹی لیٹرز بنتے ہیں‘ ہمارے پورے ملک میں ہزار بارہ سو سے زائد وینٹی لیٹرز نہیں ہیں لیکن سوال یہ ہے کیا ہم یہ ملک میں نہیں بنا سکتے؟ ہم بنا سکتے ہیں بس حکومت نے کبھی اس پر توجہ نہیں دی‘ یہ آج توجہ دے دے‘ سرمایہ کاروں کو ٹیکس میں رعایتیں دے‘ بینک انہیں کم سود پر قرضہ دے دیں اور ملک میں وینٹی لیٹرز بننا شروع ہو جائیں یوں قیمت بھی کم ہو جائے گی اور ہم وینٹی لیٹرز ایکسپورٹ کر کے سرمایہ بھی کمائیں گے۔ہم اگر جے ایف 17 تھنڈر اور الخالد ٹینک بنا سکتے ہیں تو ہم وینٹی لیٹرز کیوں نہیں بنا سکتے؟ ہم اسی طرح ای سی جی‘ ایم آر آئی اورسی ٹی سکین کی مشینیں بھی پاکستان میں بنائیں‘ ہم باہر سے ایکسپرٹس منگوائیں‘ یہ ہمارے لوگوں کو ٹرینڈ کر دیں اور ہم اپنی ضرورت کے مطابق سکیننگ مشینیں بنا لیں‘ حکومت ادویات سازی میں بھی فارما سوٹیکل کمپنیوں کو سہولت دے‘ یہ کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ مہنگی اور کم دستیاب ادویات پاکستان میں بن سکیں۔ہم کم از کم ادویات اور طبی آلات میں تو خودکفیل ہو جائیں‘ ہم اس ضمن میں کیوبا کی مثال لے سکتے ہیں‘

کیوبا غریب ملکوں میں شمار ہوتا ہے لیکن فیڈل کاسترو نے کمیونزم اور پابندیوں کے باوجود کیوبا کو ہیلتھ سسٹم میں دنیا کا بہترین ملک بنا دیا‘ میڈیکل کالجز سے لے کر ہسپتالوں تک اور ڈاکٹرز سے لے کر طبی آلات تک کیوبن ہیلتھ سسٹم دنیا کا بہترین سسٹم ہے اور یہ وہ ملک ہے امریکا نے جس کے تمام ڈاکٹرز کو امیگریشن دے دی تھی اور کیوبا کے تمام ڈاکٹرزامریکا دوڑ گئے تھے۔ہسپتالوں میں زخمیوں کی

پٹی کرنے والا بھی نہیں بچا تھا لیکن فیڈل کاسترو نے دس سال میں کیوبا کو ہیلتھ سروسز میں نمایاں مقام دلا دیا‘ ہم یہ کام کیوں نہیں کر سکتے‘ ہم کیوں ماسک اور ٹیسٹنگ کٹس کے لیے بھی دوسرے ملکوں کے محتاج ہیں؟ وزیراعظم کو چاہیے یہ ملک کو کم از کم ہیلتھ سروسز میں تو سپر پاور بنا دیں اور یہ بڑی آسانی سے یہ کام کر سکتے ہیں اور ہم نے لاک ڈاؤن کے درمیان محسوس کیا عوام کے دل سے ریاست کا خوف ختم ہو چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…